.

اوباما شامی اپوزیشن کو 'مہلک اسلحہ' فراہم کرنے پر تیار

اسلحہ کے ساتھ امریکی فوج بھیجنے کا آپشن بھی کھلا ہے: امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار اپوزیشن جنگجوؤں کو مہلک اسلحہ دینے کو تیار ہیں۔ مؤقر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اعلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مہلک اسلحہ کے ساتھ وہ شام میں فوج بھجوانے کا آپشن بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

براک اوباما اپنے حلیفوں اور دیگر سیاسی پارٹنرز کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ شامی حکومت کی بساط لپیٹنے کی کوششوں میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ یہی امریکی حکام اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات شامی بحران کے حل کے لئے ترجیحی آپشن ہیں۔

مریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ امریکا کو ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیار کون استعمال کر رہا ہے۔ یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے حوالے سے جلد بازی سے کام نہیں لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت دفاع سے کہا ہے کہ پینٹاگان سے کئی آپشنز مانگی ہے بشمول فوجی کارروائی کے اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد نے شہریوں اور باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

دوسری جانب شام کے اقوام متحدہ میں سفیر بشار جعفری نے کہا ہے کہ شام کی حکومت کبھی بھی اپنے ہی لوگوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خود شامی حکومت نے یو این سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ امسال مارچ کے مہینے میں خان العسل کے علاقے میں ہونے والے واقعات کی تحقیق کی جائے۔