.

نو سالہ بھارتی بچے کی فیراری اسپورٹس کار کی ڈرائیونگ

نونہال کی والدہ 'خطرناک مہم جوئی' کی فلم بناتی رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے کروڑ پتی تاجر کو اپنی مہم جوئی اس وقت مہنگی پڑ گئی جب پولیس نے ان کے خلاف اپنے نو سالہ کم سن بیٹے کو فیراری سپورٹس کار چلانے کی اجازت دینے کی پاداش میں مقدمہ درج کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق کم سن بیٹے کو قیمتی سپورٹس کار چلانے کی اجازت دینے پر مستزاد یہ کہ محمد نیشام نامی بھارتی تاجر نے اپنے دوسرے سات سالہ بیٹے کو دوسرے ننھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا۔ اس ساری صورتحال کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ دونوں کم بچوں کی والدہ اپنے جگر گوشوں کی خطرناک مہم جوئی کو ویڈیو کیمرے میں محفوظ کرتی رہیں۔ مہم جو جوڑے کا جنون بچوں کی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی پورا نہ ہوا تو انہوں نے اس ویڈیو کو سماجی رابطے کی ویڈیو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا، جو بعد میں ان ہی کے خلاف پولیس کے ہاتھ ناقابل تردید ثبوت بن چکا ہے۔

پولیس نے برطانوی اخبار گارجین کو بتایا کہ بچوں کا والد بھارت کا نامور پراپرٹی ٹائیکون ہے اور اس کے پاس تقریبا چار ملین امریکی ڈالرز مالیت کی 18 مہنگی گاڑیاں ہیں۔ نیشام کا کہنا ہے کہ وہ خود کوشی بندرگاہ کے قریبی پولیس اسٹیشن پیش ہو جائیں گے تاکہ وہ اپنی ضمانت کرا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ امکانی طور پر فیراری کار کو پولیس کی سپرداری میں لے سکتی ہے کیونکہ چالان عدالت میں پیش کرنے کی صورت میں انہیں اسے بطور ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔

محمد نیشام نے بتایا کہ ان کا بیٹا پانچ برس کی عمر سے ہی ان کی بنٹلے، بی ایم ڈبلیو اور دوسری قیمتی گاڑیاں چلاتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ کیرالہ میں اٹھارہ برس سے کم عمر افراد کی ڈرائیونگ قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔

ننھے ڈرائیور کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی نویں سالگرہ تھی اور کئی دنوں سے اپنے والد سے ان کی فیراری چلانے کی فرمائش کر رہا تھا جو ہم نے پوری کردی۔ 'میرا بیٹا باعتماد ڈرائیور ہے اور وہ انتہائی احتیاط سے گاڑی چلاتا ہے۔ خاتون نے انتہائی پراعمتاد لہجے میں بتایا کہ میرے بیٹے کی عمر میں کسی کے لئے اتنے اعتماد سے گاڑی چلانا آسان کام نہیں ہے۔