سعودی عرب میں سارس کی طرح کے نئے وائرس سے پانچ ہلاکتیں

چمگادڑ میں پائے جانے والے وائرس سے انسان بھی متاثر ہونے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں سارس کی طرح کے ایک نئے مہلک وائرس سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور اس وائرس سے متاثرہ دو افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مشرقی صوبے کی احسا گورنری میں نئے وائرس سے متاثرہ سات کیس سامنے آئے تھے۔قبل ازیں مارچ میں سعودی عرب میں اسی وائرس سے ایک شخص کا انتقال ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ ناول کورنا وائرس (این کوو) وائرسس کے اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو شدید سردی لگتی ہے۔اسی نسل کا سارس (سویئر ایکیوٹ ریسپریٹری سنڈروم ) وائرس سب سے پہلے 2003ء میں ایشیا بھر میں پھیلا تھا۔

سعودی عرب میں پایا جانے والا نیا وائرس بھی سارس کی طرح کا ہے لیکن پہلے یہ صرف چمگادڑ میں پایا جاتا تھا اور گذشتہ سال مشرق وسطیٰ میں پہلی مرتبہ اس وائرس کے انسانوں میں پائے جانے کی تصدیق ہوئی تھی اور سعودی عرب کے علاوہ اردن اور برطانیہ میں بھی اس کے کیس سامنے آئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس این کوو وائرس کا بھی سارس وائرس کے لیے تیار کی جانے والی دوا سے علاج ممکن ہے۔یاد رہے کہ سارس وائرس سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے دس فی صد انتقال کر گئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 26 مارچ کواپنی ویب سائٹ پر ایک اپ ڈیٹ میں این کو و وائرس سے گیارہ ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثرہ سترہ کیس سامنے آئے ہیں۔

جنیوا میں قائم عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس نے اپنے رکن ممالک سے کہا کہ وہ نظام تنفس کے انفیکشنز کے کیسز کی نگرانی جاری رکھیں اور اگر وہ این کوو وائرس کا کوئی غیرمعمولی کیس دیکھیں تو اس کا بغور جائزہ لے کر رپورٹ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں