الانبار میں حکومت مخالف سرکردہ مظاہرین کے وارنٹ گرفتاری جاری

مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد دینے پر انعام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے مغربی صوبہ الانبار کی آپریشن فورس نے صوبے کے سرکردہ قبائل کو آگاہ کیا ہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف مظاہروں کی قیادت کرنے والے افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی پورٹ کے مطابق چند افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ان میں مظاہرین کے ترجمان سعید اللافی، مظاہروں کے سرگرم منتظم محمد ابو ریشہ اور قصی الزین شامل ہیں۔ الانبار آپریشن فورس نے ان افراد کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔

عراق کی بیداری (الصحوہ) کونسل کے سربراہ احمد ابو ریشہ نے وارنٹ گرفتاریوں کے اجراء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف عراقی حکومت کے ایسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔

ابو ریشہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ الانبار میں گذشتہ ہفتے فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پانچ عراقی فوجیوں کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کو حکومت پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں۔

ادھر عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے ملک توڑنے کی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صوررتحال ہمیں ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی میں الجھا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں فرقہ واریت کے مسائل سے عراق کو اصل خطرہ ہے اور یہی ان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم کا مطالبہ عربوں، کرد، سنی اور شیعہ سب کے لیے بہت بڑا خسارہ ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ٹکڑے صوبوں کی شکل میں نہیں ہوں گے بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے برادری ازم، قبائلی، نسلی ،لسانی ،قومیتوں اور مذاہب کی صورت میں سامنے آئیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں