یو این مندوب برائے شام کا مستعفی ہونے کا ارادہ: سفارتی حلقے

شامی اپوزیشن کو عرب لیگ میں نمائندہ تسلیم کرنے پر الابراہيمی بد ظن ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے ليے اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصی مندوب الاخضر الابراہيمی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہيں۔

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ الاخضر الابراہیمی کی شام ميں امن قائم کرنے کی کوششيں مسلسل ناکامی کا شکار ہيں، جس سے اب وہ تھک چکے ہيں اور اسی ليے اپنے عہدے سے استعفیٰ دينے کا ارادہ رکھتے ہيں۔ ايک سفارت کار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا، ’’وہ استعفیٰ دينے کے سلسلے ميں کافی پرعزم ہيں۔ وہ شايد اس فيصلے کی تکميل کے ليے ايک ڈيڑھ ہفتے تک رک جائيں۔ معاملے سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ اب بھی يہی چاہتے ہيں کہ براہيمی اپنے عہدے پر فائض رہيں۔‘‘

سفارت کاروں کے بہ قول الابراہیمی اس ليے بھی عرب ليگ سے عليحدگی اختيار کرنا چاہتے ہيں کيوں کہ ليگ نے پچھلے مہينے شامی اپوزيشن کو تسليم کرنے کا فيصلہ کيا اور اس تناظر ميں براہيمی کا ماننا ہے کہ اس فيصلے سے ان کی غيرجانبداری مجروح ہوگی۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے ايک سفارت کار کا کہنا تھا، ’’ الابراہیمی کا ماننا ہے کہ عرب ليگ نے اب جو سمت اختيار کر لی ہے، وہ اقوام متحدہ سے ذرا مختلف ہے اور اس صورتحال ميں ان کے ليے يہ ممکن نہيں کہ وہ بیک وقت دونوں تنظیموں کی نمائندگی کر سکیں۔‘‘

پچھلے دنوں اس بارے ميں بھی کئی خبريں گردش کرتی رہيں کہ الابراہیمی شام کے معاملے پر واشنگٹن اور ماسکو کے درميان پائے جانے والی عدم اتفاقی کی وجہ سے مستعفی ہو رہے ہيں۔ ان دونوں ممالک کے تنازعے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہاتھ بندھے ہيں کيوں کہ دونوں ہی ملک ايک دوسرے کی قرارداديں ويٹو کرنے کا حق رکھتے ہيں۔ واضح رہے کہ شام کے ليے اقوام متحدہ کے سابق مندوب کوفی عنان بھی کچھ ايسی ہی وجوہات کی بنياد پر اپنا کام جاری نہ رکھ پائے تھے اور انہوں نے بھی پچھلے سال اپنے عہدے سے استعفیٰ دے ديا تھا۔

بشار الاسد کا دمشق میں گیس اسٹیشن کا دورہ

درايں اثناء شام کے سرکاری ميڈيا کے مطابق صدر بشار الاسد نے يکم مئی کو دمشق کے ايک پاور اسٹيشن کا دورہ کيا۔ سرکاری نيوز ايجنسی 'سانا' کے مطابق اس موقع پر اسد نے کہا، ’’قريب دو برسوں سے جاری جنگ کے دوران شام کے مزدوروں نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ وہ شام کی طاقت کے عناصر کی حيثيت رکھتے ہيں۔‘‘ رپورٹ ميں صدارتی محل کے قريب واقع اس پاور اسٹيشن کے ملازمين کو صدر اسد کے ساتھ دکھايا گيا ہے۔

واضح رہے کہ اسی ہفتے دارالحکومت دمشق ميں دو بم دھماکے ہو چکے ہيں، جن ميں مجموعی طور پر انتيس افراد لقمہ اجل بنے۔ ادھر ملک کے شمالی حصے ميں کرد جنگجوؤں اور شامی باغيوں کے درميان جھڑپوں ميں اضافے کی بھی اطلاعات ہيں۔

شام ميں مارچ 2011ء ميں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحريک کے نتيجے ميں اب تک اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق قريب 70 ہزار افراد اپنی جانيں کھو چکے ہيں جب کہ تقريبا ڈیڑھ ملين افراد بے گھر بھی ہو چکے ہيں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں