جیمز ڈوبنز پاکستان اور افغانستان کے لیے نئے امریکی مندوب مقرر

ستر سالہ جیمز متعدد یورپی ملکوں میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے تجربہ کار سفارت کار جیمز ڈوبنز کو افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی مندوب مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جیمز ڈوبنز کئی ممالک میں امریکا کے لیے سفارتکاری کا فریضہ سرانجام دے چکے ہیں۔

سابق امریکی سفیر جیمز ڈوبنز کو افغانستان اور پاکستان میں امریکی خارجہ پالیسی کے تناظر میں معاملات کو آگے بڑھانے کا فریضہ سونپا گیا ہے۔ وہ سابق امریکی صدر جورج ڈبلیُو بُش جونیئر کے دور میں بھی افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی کا فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے جرمن شہر بون میں ہونے والی اہم اور بین الاقوامی نوعیت کی کانفرنس میں بھی انہوں نے امریکا کی نمائندگی کی تھی۔

جیمز ڈوبنز کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان اپنے موجودہ الجھے ہوئے حالات کے تناظر میں انتہائی نازک اور اہم دور سے گزر رہے ہیں۔ جان کیری کے مطابق یہ الجھے اور پیچیدہ معاملات سلامتی، سیاسی اور اقتصادی نوعیت کے ہیں۔ کیری کے نزدیک گیارہ مئی کو پاکستان میں ہونے والے الیکشن تاریخی اور جمہوریت کے تسلسل میں منتقل ہوتے اقتدار کا مظہر ہیں۔ کیری نے ڈوبنر کے انتخاب کو وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ترجیحی بنیاد پر مکمل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصب کے لیے انتہائی موزوں سفارت کار ہیں جو موجودہ تنازعے کو سفارتی کوششوں کے ساتھ مثبت انجام تک پہنچائیں گے۔

جان ڈوبنز کی تقرری کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے جمعے کے روز پاکستان کے صدر آصف زرداری کو ٹیلی فون پر مطلع کیا۔ اسی طرح کیری نے اس مناسبت سے افغان صدر حامد کرزئی سے فون پر بات چیت کی۔ جیمز ڈوبنز کو خصوصی مندوب مقرر کرنے کے فیصلے سے جان کیری نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بتایا۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکی سفارتکار جیمز ڈوبنز نے سن 2001 میں افغانستان پر قائم طالبان کی حکومت کے زوال کے بعد کابل میں امریکی سفارت خانے کی عمارت پر اپنے ملک کا پرچم لہرایا تھا۔ امریکا کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی مندوب کے منصب پر ماضی میں رچرڈ ہالبروک اور مارک گروسمین بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ رچرڈ ہالبروک کی سن 2010 میں ہونے والی اچانک رحلت کے بعد مارک گروسمین کا تقرر کیا گیا تھا۔ گروسمین نے چودہ دسمبر سن 2012 میں اس عہدے کو چھوڑ دیا تھا۔

جیمز ڈوبنز کی عمر ستر برس سے زائد ہے اور وہ یورپی یونین میں امریکا کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔ ڈوبنز ایک تجربہ کار سفارت کار خیال کیے جاتے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے ڈپلومیٹ رہنے والے جیمز ڈوبنز امریکی وزارت خارجہ میں یورپی امور کے نائب وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ امریکی اکیڈیمی آف ڈپلومیسی کے بھی رکن ہیں۔ ڈوبنز اپنے کیریر میں بوسنیا، صومالیہ، ہیٹی اور کوسوو میں امریکی سفارت خانوں میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی مشکل حالات سے دوچار ملکوں میں واقع امریکی سفارت خانوں میں کامیاب انداز میں فرائض انجام دینے والے سفارتکار ہیں۔ ان دنوں وہ مشہور امریکی تھنک ٹینک 'رینڈ' میں انٹرنیشنل اور سکیورٹی امور کے شعبے کے سربراہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں