.

تیونسی صدر کا الجزائر کے ساتھ واقع سرحدی پہاڑی علاقے کا دورہ

القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف فوج کی کارروائیوں کا جائزہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدر منصف مرزوقی نے منگل کو الجزائر کی سرحد کے ساتھ واقع مغربی پہاڑی علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں تیونسی فوج القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر منصف مرزوقی نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں مصروف فوجیوں کا مورال بلند کرنے کے لیے جبل الشعانبی کے علاقے میں دورہ کیا ہے۔

قبل ازیں تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ سرحدی شہر الکیف اور جبل الشعانبی میں پینتیس چالیس جنگجو موجود ہیں۔ان کے دوگروہ ہیں۔ایک کیف کے علاقے میں ہے۔ان کی تعداد چودہ پندرہ ہے اور دوسرا گروہ جبل الشعانبی میں چھپا ہوا ہے۔ان کی تعداد بیس کے لگ بھگ ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ''ان دونوں گروپوں کا آپس میں گہرا رابطہ ہے۔جبل الشعانبی میں موجود گروپ کے القاعدہ سے وابستہ گروپ عقبہ بن نافع بریگیڈ سے تعلقات ہیں۔ہم نے ان دونوں گروپوں کو الگ تھلگ کردیا ہے اور گذشتہ روز الشعانبی گروپ کو اشیائے خورونوش مہیا کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

تیونسی حکام نے دسمبر میں قصرین کے علاقے میں عقبہ بن نافع بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے سولہ جنگجوؤں کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی اور اس بریگیڈ کو اسلامی مغرب میں القاعدہ کا ایک سیل قرار دیا تھا۔

تاہم تیونس کے سکیورٹی ادارے گرفتار شدہ افراد اور الشعانبی کے علاقے میں چھپے ہوئے مسلح جنگجوؤں کے درمیان اب تک کوئی تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔فوج نے گذشتہ ہفتے اس پہاڑی علاقے میں گھریلو ساختہ بم کے دھماکے کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی تیز کردی تھی۔اس بم دھماکے میں سولہ فوجی زخمی ہوگئے تھے اور ان میں سے بعض کی ٹانگیں بم دھماکے میں کٹ گئی تھیں۔

واضح رہے کہ سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے تیونس میں اسلامی جنگجوؤں نے پر پرزے نکال لیے ہیں اور وہ آئے دن سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ان میں سے بعض کا تعلق سخت گیر سلفیوں سے ہے اور بعض کا اسلامی مغرب میں القاعدہ سے بیان کیا جاتا ہے۔ان کی سرگرمیوں کے بارے میں تیونس کے لبرل حلقے اپنی تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔