.

سعودی عرب میں سارس کی طرح کے نئے وائرس سے مزید دوافراد جاں بحق

شہریوں کو تشویش میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے:وزارت صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سارس کی طرح کے نئے مہلک وائرس سے مزید دوافراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔اس طرح گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اس مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے وزارت صحت کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران مشرقی صوبے کے علاقے الاحسا میں کورونا وائرس کے تین نئے کیس رجسٹرکیے گئے تھے۔ان میں سے دو دم توڑ گئے ہیں اور ایک کی حالت تسلی بخش بتائی گئی ہے۔

ایس پی اے نے مرنے والے دونوں افراد کی قومیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔سعودی وزارت صحت نے گذشتہ بدھ کو سارس کی طرح کے اس نئے وائرس سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی موت کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ اس وائرس سے متاثرہ دو افراد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے جمعہ کو سعودی عرب میں سارس وائرس سے متاثرہ تین نئے کیسوں کی اطلاع دی تھی۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے تیل کی دولت سے مالا مال علاقے الاحسا میں نئے وائرس سے متاثرہ افراد کے کیس سامنے ائے ہیں۔یہ علاقہ بحرین اور قطر کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

سعودی وزارت صحت نے عوام کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ دوسرے نزلے والے واَئرسس کی طرح اس وائرس سے بڑے پیمانے پر افراد متاثر نہیں ہوئے ہیں۔اس لیے انھیں تشویش میں مببتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وزارت نے بتایا کہ اس نے حال ہی میں سعودی مملکت میں تیرہ بیماریاں رجسٹر کی ہیں۔

واضح رہے کہ ناول کورنا وائرس (این کوو) وائرسس کے اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو شدید سردی لگتی ہے۔اسی نسل کا سارس (سویئر ایکیوٹ ریسپریٹری سنڈروم ) وائرس سب سے پہلے 2003ء میں ایشیا بھر میں پھیلا تھا۔

سعودی عرب میں پایا جانے والا نیا وائرس بھی سارس کی طرح کا ہے لیکن پہلے یہ صرف چمگادڑ میں پایا جاتا تھا۔گذشتہ سال مشرق وسطیٰ میں پہلی مرتبہ اس وائرس کے انسانوں میں پائے جانے کی تصدیق ہوئی تھی اور سعودی عرب کے علاوہ اردن ،جرمنی اور برطانیہ میں بھی اس کے کیس سامنے آئے تھے۔اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں اس وائرس سے اٹھارہ افراد کا انتقال ہوچکا ہے۔ان میں گیارہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔