.

لیبیا کے وزیر دفاع محمد البرغثی اپنے عہدے سے مستعفی

مسلح افراد کی جانب سے وزارتوں کے محاصرے کا ڈراپ سین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر دفاع محمد البرغثی نے منگل کے روز مسلح افراد کی جانب سے دو وزارتوں کے محاصرے پر احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ البرغثی کے بہ قول حملہ کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے کے دو برس بعد رواج پانے والی جمہوریت کے خلاف جارحیت کا ارتکاب ہے۔

محمد البرغثی عوامی مطالبات کے سلسلے میں دباؤ بڑھانے کے لئے مختلف حکومتی دفاتر اور وزارتوں کے محاصرے سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد مستعفی ہونے والے پہلے وزیر ہیں۔ مسلح گروپ اتوار کے روز پارلیمنٹ کی جانب سے سابق صدر کرنل قذافی کی باقیات کو نئی انتظامیہ میں شمولیت کے لئے نااہل قرار دینے کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ شدید بحرانی کیفیت کے بعد پارلیمنٹ نے عملاً سابق دور حکومت میں اہم عہدوں پر فائز افراد کو نئی انتظامیہ میں شمولیت کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا۔

مستعفی وزیر دفاع البرغثی کا کہنا تھا کہ وہ بندوق کی نوک پر سیاسی عمل کو قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس جمہوریت کے تحفظ کا حلف اٹھا کر ہم ایوان میں آئے ہیں، دھونس کی سیاست اس کی صریح نفی ہے۔

کرنل قذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے لیبیا میں متعدد مسلح ملیشیا گروپوں کی کارروائیوں نے ملک کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ لیبی نیشنل کانگریس کے بعض ارکان نے سیاسی تنہائی کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو سو ارکان پر مشتمل لیبی پارلیمنٹ کے چالیس ممبران پر نئے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ نیز موجودہ وزیر اعظم، لیبیا کے سابق مرد آہن سے الگ ہونے سے پہلے تک طرابلس کے سفیر کے طور پر مختلف دارلحکومتوں میں سفیر رہ چکے ہیں۔