افغانستان: مظاہرے کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 6 افراد ہلاک

طالبان کا صوبہ قندھار میں پیش آئے تشدد آمیز واقعے میں ملوث ہونے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھار میں بدھ کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں چھے افراد مارے گئے ہیں اور بیس زخمی ہو گئے ہیں۔

قندھار کے ضلع میوند میں پیش آئے تشدد کے اس واقعہ کے بارے میں افغان حکام اور عینی شاہدین نے متضاد بیانات جاری کیے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ لوگ پاکستانی فوج کی جانب سے سرحدی علاقے میں فائرنگ کے مبینہ واقعہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران ان میں طالبان مزاحمت کار بھی گھس آئے۔

صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''مظاہرے کے دوران طالبان کے مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی۔انھوں نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا اورایک مرکزی شاہراہ پر فائرنگ کرکے دو ڈرائیوروں کو ہلاک کر دیا''۔

افغان پولیس نے جوابی فائرنگ کرکے ان میں سے چار مسلح افراد کو ہلاک کردیا۔پولیس سربراہ کے بہ قول لوگ پاکستان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے لیکن طالبان نے اس کو تشدد آمیز بنا دیا۔

صوبہ قندھار کے سرکاری میڈیا دفتر نے ضلع میوند میں طالبان مزاحمت کاروں کی فائرنگ سے تین ڈرائیوروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے آٹھ طالبان مارے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق مظاہرین میں سے بعض مسلح افراد نے پہلے فائرنگ کی تھی۔

دوسری جانب علاقے کے مکینوں نے افغان حکام کے مذکورہ بالا موقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور ان کے بیانات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہرہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ امریکی اور افغان فوجوں کی رات کو گھروں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا۔

طالبان کے ایک ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ اس واقعے میں ان کا کوئی جنگجو ملوث نہیں تھا۔میوند کے اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے پاس پانچ لاشیں اور بیس زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

گذشتہ سوموار کو افغان دارالحکومت کابل کے نواح میں پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کے خلاف دو ہزار سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔مشرقی صوبہ خوست میں بھی کم سے کم تین ہزار طلبہ نے پاکستان مخالف ریلی نکالی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں