امریکا اور روس، شام سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس بلانے پر رضامند

"شامی اپوزیشن کی جانب سے جینوا معاہدے کی توثیق کے منتظر ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا اور روس، شام میں بشار الاسد اور ان کے سیاسی مخالفین کے درمیان گزشتہ برسوں سے جاری تنازعہ حل کرانے کی خاطر بین الاقوامی کانفرنس بلانے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

اس امر کا اعلان امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے ماسکو میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ رواں مہینے کے اختتام تک منعقد کی جانے والی کانفرنس کا مقصد شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کو ایک میز پر بٹھانا ہے تاکہ بحران کا حل تلاش کیا جا سکے۔

سرگئی لاروف نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے شام کے موضوع پر کانفرنس منعقد کرانے کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ ہم شامی تنازعے کے متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جینوا معاہدہ ہی شامی بحران حل کرانے کا سب سے مناسب فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

لاروف نے بتایا کہ جینوا معاہدے سے متعلق انہیں ابھی شامی اپوزیشن کی رضامندی کا انتظار ہے۔ انہوں نے تصدیق کی شامی حکومت جنیوا معاہدے کے فریم ورک میں شامی تنازعہ حل کرانے کو تیار ہے۔ جنیوا معاہدے میں شامی بحران کے بارے میں یہ روسی موقف سامنے آ چکا ہے کہ وہ شام میں کسی شخصیت کو نہیں بلکہ اس کے عوام کا تحفظ کر رہے ہیں۔

سرگئی لاروف نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ اگر شام میں اپوزیشن اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ایسے میں ملک کا شیرازہ بری طرح منتشر ہو جائے گا۔ روسی وزیر خارجہ کے بہ قول شامی اپوزیشن 'دہشت گردوں' کا گروہ ہے۔

شامی حکومت کی جانب سے اپنے سیاسی مخالفین اور عام شہریوں کے خلاف کیمیاوئی ہتھیاروں کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس الزام کا کوئی سائنسی ثبوت ہونا چاہئے اور ہم امریکا کے ساتھ ملکر اس معاملے کی تفتیش کرنے کو تیار ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جینوا معاہدہ شامی بحران کے حل کی بنیاد ہے۔ شامی تنازعے کے فریقوں کو بحران حل کے ان امور کا تعین کر سکیں۔ ہمارا روس کے ساتھ اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تنازعے کے فریقوں کو مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔

جان کیری نے خبردار کیا کہ اگر تنازعے کے فریقوں نے بحران کا حل تلاش کرنے میں مزید تاخیر سے کام لیا تو ملک افراتفری اور نسلی تطھیر کا شکار ہو جائے گا۔ "بال اب شامی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ دمشق کو اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے باز رہنا چاہئے۔" شامی اپوزیشن کا اسلحہ فراہمی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جان کیری نے کہا کہ یہ بات کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ثبوتوں سے مشروط ہے۔

اعلی امریکی سفارتکار نے خبردار کیا کہ شامی بحران کو سیاسی طریقے ہٹ کر حل کرنے کی کوشش سے ملکی شیرازہ بکھر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ شام میں انتہا پسندوں کا مقابلہ کیا جائے۔ مسٹر کیری نے مزید کہا کہ براک اوباما اور ولادی میر پوتن کے درمیان ہونے والے ملاقات میں شام کے بارے میں امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں