بشار الاسد ''نسلی تطہیر'' کے پلان بی پرعمل پیرا ہیں: ترک وزیر خارجہ

حمص سے لبنان تک علویوں کے لیے محفوظ علاقہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے شامی صدر بشار الاسد پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اپنے علوی فرقے کے لیے ایک محفوظ زون کے قیام کی غرض سے ''نسلی تطہیر'' کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

انھوں نے ترک روزنامے حریت کے ساتھ ایک انٹرویو میں شام کے ساحلی شہر بانیاس میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ہاتھوں ان کی حکومت کے مخالفین کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بشارالاسد ایک نام نہاد پلان بی پر عمل پیرا ہیں اور وہ مخصوص علاقوں میں نسلی تطہیر کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ بحر متوسط کے کنارے واقع شہر بانیاس کے ایک سنی اکثریتی علاقے میں شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے حالیہ حملوں کا حوالہ دے رہے تھے جن میں ایک سو سے زیادہ افراد کو وحشیانہ انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔عالمی برادری نے اس شہر میں اہل سنت کے قتل عام کی مذمت کی ہے۔

احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ '' اس نام نہاد منصوبہ بندی بی کے تحت فرقہ وارانہ بنیاد پر لڑائی کی جاری ہے اور ایک مخصوص فرقے کے لیے خلاء اور کوریڈور کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے''۔ان کے بہ قول ''بشارالاسد وسطی شہر حمص سے لبنان تک علویوں کے لیے ایک علاقہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں''۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''بانیاس ایک اہم مقام پر واقع ہے اور یہ لبنان کی جانب جانے والی گذرگاہ پر ہے۔ وہاں ایک خوفناک کھیل کھیلا جارہا ہے اور مقامی لوگوں کا نسلی صفایا کیا جارہا ہے۔اس کا بڑا مقصد وہاں کے لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور کرنا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لبنان میں آنے والے دس لاکھ شامی مہاجرین اہل سنت ہیں''۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں بانیاس میں سرکاری فوج کے ہاتھوں بچوں کے بہیمانہ انداز میں قتل کی تصاویر دیکھ کر صدمہ پہنچا ہے۔ انھوں نے بانیاس میں قتل عام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شامی صدر اہل تشیع کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا خاندان گذشتہ چار عشروں سے بر سر اقتدار ہے جبکہ ان کے خلاف مسلح عوامی بغاوت میں اہل سنت سے تعلق رکھنے والے نوجوان پیش پیش ہیں اور شامی فوج میں شامل سنیوں کی اکثریت بھی سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کر باغیوں کے ساتھ مل چکی ہے۔

ترکی نے بشارالاسد کی جانب سے دوسال قبل اپنے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد دمشق کے ساتھ ہر قسم کے روابط منقطع کر لیے تھے حالانکہ اس سے پہلے ترکی شام کا سب سے قریبی دوست ملک سمجھا جاتا تھا۔ ترکی شامی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی کھلم کھلا حمایت کررہا ہے اور اس وقت ترکی کے مختلف علاقوں میں چار لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد منحرف فوجیوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں