تیونس کا ملک میں القاعدہ کی موجودگی کا اعتراف

وزارت داخلہ کے آپریشن میں 37 دہشت گرد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں سرگرم دو دہشت گرد گروپوں کے القاعدہ سے روابط ہیں۔

اس بات کا اعلان وزارت داخلہ کے سرکاری ترجمان محمد علی العروی نے منگل کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا کے ساتھ گفتگو کا اہتمام وزارت داخلہ اور دفاع نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ تیونس کے کسی اعلی سیکیورٹی عہدیدار کی طرف سے القاعدہ کی موجودگی کا یہ پہلا باقاعدہ اعتراف ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروپ جبل الشعنبی کے القاعدہ سے باقاعدہ رابطے ہیں۔ یاد رہے کہ تیونس کے ایک جہادی رہنما نے جبل الشعابنی میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات کی ذمہ داری الجزائر پر عاید کرتے ہوئے کہا تھا کہ الجزائر نے علاقے میں دہشت گردی کی کارروائی اسلام اور توحید پرستوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے کی۔

حالیہ بیانات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ انتہا پسند مسلح گروپ تیونس میں سرگرم ہیں۔ باڈر سیکیورٹی فورس اور قومی فوج نے دو دہشت گرد گروپوں کا دو ہفتے سے محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان میں ایک گروپ پندرہ افراد پر مشتمل ہے اور وہ الکاف صوبے میں سرگرم رہا ہے جبکہ بیس افراد پر مشتمل دوسرا گروپ القصرین کی جبل الشعانبی کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے دعوی کیا کہ دہشت گرد گروپوں کا المغرب الاسلامی کے القاعدہ سرکل سے وابستہ 'عقبہ ابن نافع' یونٹ سے ہے۔

داریں اثنا تیونس کے صدر المنصف المرزوقی اور چیف آف آرمی سٹاف رشید عمار نے اس علاقے کا بذریعہ ہیلی کاپٹر دورہ جہاں القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد گروپوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ صدر اور فوجی سربراہ کے دورے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ سیکیورٹی حکام نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا دائرہ دوسرے علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جندویہ صوبے کے عین ام ھانی، وادی ملیز اور متعمدیہ علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

میجر محمد علی العروی نے منگل کے روز اپنی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے 37 دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے تیونس میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے ان جماعتوں کے تیارکردہ دہشت گردی منصوبے کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نو تیونسی اور گیارہ الجزائری دہشت گرد جبل الشعانبی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ فوج اور دوسرے سیکیورٹی اداروں نے اس پہاڑی علاقے کا مختلف سمتوں سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں