طرابلس میں جنگجوؤں نے وزارتوں سے توپیں ہٹا دیں، احتجاج جاری

فرانس، برطانیہ اور امریکا کے سفارت خانوں کا مشترکہ بیان میں تشدد سے گریز کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مسلح افراد نے دو وزارتوں کے باہر سے اپنی مشین گنیں اور توپیں ہٹا لی ہیں لیکن انھوں نے حکومت سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مسلح جنگجوؤں نے 28 اپریل سے وزارت خارجہ اور اس سے دوروز بعد سے وزارت انصاف کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ سابق صدر معمر قذافی کے دور سے تعلق رکھنے والے تمام سرکاری عہدے داروں کو ان کے مناصب سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس نے اتوار کو سابق دور سے تعلق رکھنے والے سرکاری عمال کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے لیے قانون کی منظوری دی تھی۔ تاہم اس کے باوجود فوجی وردی میں ملبوس مسلح مظاہرین نے وزارت انصاف اور وزارت خارجہ کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور بدھ کو وہاں سے صرف اپنے ہتھیار ہٹائَے ہیں۔

طرابلس کے وسط میں واقع وزارت خارجہ کے اڑوس پڑوس میں رہنے والے مکینوں نے اپنے علاقے میں ہتھیاروں کی موجودگی پر احتجاج کیا تھا جس کے بعد مسلح لیبی نوجوانوں نے وہاں سے بھاری ہتھیار ہٹا لیے ہیں۔

سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح بغاوت میں حصہ لینے والے ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ''وہ وزارت انصاف اور وزارت خارجہ کی تطہیر چاہتے ہیں''۔اب وہ وزیراعظم علی زیدان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ وہ بھی 2011ء میں برپاشدہ انقلاب سے قبل سابق صدر کی حکومت میں کئی سال تک شامل رہے تھے۔

درایں اثناء طرابلس میں امریکی ،برطانوی اور فرانسیسی سفارت خانوں نے آج ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں تمام لیبی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جمہوری تبدیلی کے اس عمل میں مسلح احتجاج اور تشدد سے گریز کریں۔

بیان میں لیبی عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے جمہوری طور پر منتخب قائدین کی حمایت کریں۔ بیان کے مطابق ''یہ بات اہم ہے کہ ملکی ادارے مسلح مداخلت اور زورزبردستی کے بغیر آزادانہ طور پر کام کریں۔ عالمی برادری جمہوری تبدیل کے اس عمل کے دوران ملک کا تشویش کے ساتھ مشاہدہ کر رہی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں