.

عراق کا ترکی کے کرد جنگجوؤں کو پناہ دینے سے انکار

پی کے کے اور ترک حکومت کے درمیان امن معاہدے پر عمل درآمد میں رخنہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے ترکی اور کرد باغیوں کے درمیان طے پائے امن معاہدے کی ایک اہم شق پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے۔اس معاہدے کے تحت کرد باغیوں کا ترکی کے علاقے سے عراق کے شمالی علاقے کردستان کی جانب انخلاء ہوگا لیکن اب عراق نے کرد جنگجوؤًں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

عراق کی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''عراقی حکومت ترکی میں فریقین کے درمیان خونریزی اور تشدد کے خاتمے کے لیے کرد کاز کے کسی بھی سیاسی اور پُرامن حل اور جمہوری طرزعمل اپنانے کا خیرمقدم کرتی ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ''اس کے ساتھ وہ اپنے علاقے میں مسلح گروپوں کے داخلے کو قبول نہیں کرسکتی کیونکہ اس سے عراق کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے''۔

عراق کی تشویش کو دور کرنے کے لیے کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے ترجمان احمد دینز نے عراقی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ امن منصوبے سے خطے میں جمہوریت اور استحکام کو فروغ ملے گا۔

ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''امن عمل کسی کے بھی خلاف نہیں ہے اور اس معاملے میں کسی کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ اب جدوجہد ایک اور شکل اختیار کر جائے گی اور اس سے دوسروں کے لیے خطرات پیدا نہیں ہوں گے''۔

احمد دینز کا کہنا تھا کہ تنازعے کے ''ایک جمہوری حل سے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ہم تشویش کو سمجھتے ہیں لیکن اس عمل کا تعلق کرد ایشو کے حل سے ہے اور اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا''۔

عراقی وزارت خارجہ اور پی کے کے کے ترجمان کے یہ بیانات کرد باغیوں کے ترکی کے علاقے سے عراق کے شمالی پہاڑی علاقے کی جانب انخلاء کے آغاز کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ بغداد حکومت اس عمل کو جاری رکھے گی یا روک دے گی۔

ترکی کے علاقے سے مسلح کردوں کے انخلاء کے لیے کردستان ورکرز پارٹی کے جیل میں قید سربراہ عبداللہ اوجلان اور انقرہ حکومت کے درمیان مارچ میں امن معاہدہ طے پایا تھا اور اس پر بدھ سے عمل درآمد شروع ہوا ہے اور کرد باغی چھے،چھے کی ٹولیوں کی شکل میں ترکی کے علاقے سے شمالی عراق میں قندیل کے پہاڑ کی جانب آرہے ہیں۔

کردوں اور ترک حکومت کے درمیان تین مراحل پر مبنی امن عمل کے تحت جنگجوؤں کے انخلاء کے بعد ترکی میں کردوں کو حقوق دینے کے لیے آئینی اصلاحات کی جائیں گی اور سب سے آخری مرحلے میں عبداللہ اوجلان سمیت پی کے کے کے ارکان کو جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔اسی مرحلے میں جنگجوؤں سے ہتھیار بھی واپس لیے جائیں گے۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ ہتھیاروں کی واپسی کیسے ہوگی اور اس کی نگرانی کون کرے گا؟

استنبول کے نزدیک ایک جزیرے میں واقع جیل میں قید کرد لیڈر عبداللہ اوجلان اور ترک حکومت کے درمیان چھے ماہ تک بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ان کے نتیجے میں انھوں نے اکیس مارچ کو کردوں کے نئے سال کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ ہتھیار پھینک کر شمالی عراق کی جانب چلے جائیں۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہوئے کرد باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کیے اور انھیں ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سنہ اسّی کے عشرے سے جاری مسلح تحریک کو ختم کرنے پر آمادہ کیاہے حالانکہ انھیں ملک کی قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ اور قوم پرستوں کی جانب سے کردوں کے ساتھ مذاکرات پر شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ان کی قیادت میں ترک حکومت نے کردوں کو اپنی زبان میں ٹیلی ویژن چینل کی نشریات شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے اور اب سرکاری اسکولوں میں کرد زبان اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ کرد باغیوں کی بڑی جماعت کردستان ورکز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجو سنہ 1980ء کے عشرے سے ترکی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار تھے اور وہ آزادانہ ترکی اور عراق کے درمیان سرحد کے آرپارآتے جاتے رہے ہیں۔کردباغی ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں اپنے الگ وطن کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے تھے۔اس لڑائی میں پینتالیس ہزارسے زیادہ افراد مارے گئے ہیں جبکہ امریکا، یورپی یونین اور دنیا کے بیشتر ممالک نے ''پی کے کے'' کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔