.

ابوقتادہ معاہدے کی توثیق کے بعد اردن چلے جائیں گے:برطانوی وکیل

اردنی پارلیمان سے تشدد سے حاصل کردہ شواہد استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کا انتظار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں اردن سے تعلق رکھنے والے راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر اردنی پارلیمان نے تشدد سے حاصل کردہ شواہد کو استعمال نہ کرنے کی توثیق کردی تو ان کے موکل اپنے آبائی وطن واپس چلے جائیں گے۔

وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے یہ یقین دہانی لندن میں خصوصی امیگریشن اپیلز کمیشن کو کراِئی ہے جو ابو قتادہ کی اپنی حراست کے خلاف دائر کردہ اپیل کی سماعت کررہا ہے۔انھیں کچھ عرصہ قبل اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی پر دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا جس کے خلاف انھوں نے اپیل دائر کی ہے۔

برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے 24 اپریل کوابو اقتادہ کی ملک بدری سے متعلق نئے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت عمر محمد عثمان المعروف ابو قتادہ کو برطانیہ سے بے دخل کر کے اردن کے حوالے کیا جاسکے گا۔ان کے وکیل فٹزجیرالڈ نے ٹرائبیونل کو بتایا کہ ''جب اردنی پارلیمان اس معاہدے کی توثیق کردے گی تو ان کے موکل رضاکارانہ طور پر واپس چلے جائیں گے''۔

اردن کی جانب سے فوری طور پر ابو قتادہ کے وکیل کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔تھریسامے نے برطانوی دارالعوام کو بتایا تھا کہ معاہدے میں شفاف ٹرائل کی ضمانت دی گئی ہے اور ابو قتادہ کے خلاف اردن میں تشدد سے حاصل کردہ شواہد کو عدالتوں میں استعمال نہ کرنے کی بھی یقین دہانی حاصل کی گئی ہے۔اب اردن کی پارلیمان میں اس معاہدے کی توثیق ہونا باقی ہے۔

واضح رہے کہ باون سالہ ابو قتادہ 1993ء سے برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔انھیں چند ماہ قبل برطانیہ کے شہر وورسٹرشائر کی لانگ لارٹن جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ضمانت کی شرائط کے تحت رہائی کے عرصہ میں ان پر سولہ گھنٹے کے کرفیو کی پابندی عاید کی گئی تھی اور وہ صبح آٹھ بجے سے سہ پہرچار بجے کے دوران ہی گھر سے باہر نکل سکتے تھے۔

برطانیہ کے خصوصی امیگریشن اپیلز کمیشن نے قبل ازیں اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ وہ اس بات پر مطمئن نہیں کہ اردن ابو قتادہ کے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دے گا۔کمیشن نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے گذشتہ سال جنوری کے فیصلے کی توثیق کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اردن میں تشدد عام ہے اور اس کا ثبوت اس کی عدالتوں میں پیش کیے گئے شواہد سے بھی ملا ہے۔کمیشن کے ججوں نے قرار دیا تھا کہ ابوقتادہ کی ان کے ملک میں واپسی ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

ابوقتادہ فلسطینی نژاد اردنی عالم دین ہیں۔اردن میں 1999ء اور 2000ء میں ان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت ان کی عدم موجودگی میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو 1998ء میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قراردیا تھا۔اب اگر انھیں اردن کے حوالے کیا جاتا ہے توان کے خلاف وہاں یہ مقدمہ دوبارہ چلایا جائے گا۔ اردن کی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ ابو قتادہ کے خلاف منصفانہ اور شفاف انداز میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

برطانیہ انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قراردیتا چلا آ رہا ہے اور انھیں ایک ہسپانوی جج نے ماضی میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا ایک سنئیر مشیر قراردیا تھا جبکہ برطانوی حکومت کے وکلاء نے ماضی میں ان کا تعلق القاعدہ کے ایک جنگجو زکریا موسوی سے بھی جوڑنے کی کوشش کی تھی۔

زکریا موسوی پر امریکا میں نائن الیون حملوں کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان کے خطبات کی آڈیو ریکارڈنگز گیارہ ستمبر کو طیارے ہائی جیک کرنے والے بعض حملہ آوروں کے جرمنی کے شہر ہمبرگ میں واقع فلیٹ سے ملی تھیں اور انھی سے ان کا القاعدہ سے تعلق جوڑا گیا تھا۔