.

پوتین ،براؤن کا شامی بحران کے حل کے لیے ممکنہ آپشنز پر تبادلہ خیال

روس اور برطانیہ شام میں تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں:سوچی میں مشترکہ نیوزکانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ انھوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ شامی تنازعے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو روس کے جنوبی شہر سوچی میں ڈیوڈکیمرون کے ساتھ ملاقات کے بعد نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''اگرچہ شامی بحران کو حل کرنے کے طریقوں پر روس اور برطانیہ کے موقف مختلف ہیں، پھر بھی دونوں ممالک کا مقصد ایک ہی ہے''۔

ان کے بہ قول ''روس اور برطانیہ دونوں چاہتے ہیں کہ شام میں تشدد کا سلسلہ جلد سے جلد بند کیا جائے اور امن مذاکرات کاعمل شروع کیا جائے تاکہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات میں اس مقصد کے حصول کے لیے مشترکہ امکانات پر غور کیا گیا ہے''۔

ڈیوڈ کیمرون نے اس ضمن میں کہا: "یہ راز نہیں کہ مسئلہ شام پر ہمارے موقف میں فرق ہے لیکن برطانیہ اور روس دونوں شام میں تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ شام کے عوام کو نئی حکومت منتخب کرنے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے''۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ، روس اور دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ شام میں عبوری حکومت تشکیل دینے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کریں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ شام کی تمام سیاسی قوتیں آپس میں مذاکرات شروع کریں۔ تشدد کو بند کرانا ہمارا فرض ہے کیونکہ اس سے شام کے علاوہ پوری دنیا کو خطرہ ہے"۔

اس نیوزکانفرنس سے چندے قبل روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ ماسکو شام کو بھیجے جانے والے جدید فضائی دفاعی نظام کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

انھوں نے وارسا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''روس ماضی میں شام کے ساتھ طے پائے اسلحہ کی فروخت کے معاہدوں پر عمل درآمد کررہا ہے لیکن ان میں ایس 300 میزائل دفاعی نظام کی فروخت شامل نہیں ہے بلکہ اس کو بہت پہلے فروخت کردیا گیا تھا اور اب ان کے آلات بھیجے جارہے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''طیارہ شکن دفاعی نظام کی فروخت کسی بھی بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع نہیں ہے۔یہ دفاعی ہتھیار ہیں''۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے گذشتہ روز خبردار کیا تھا کہ روسی میزائلوں کی شام کو فروخت سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا۔

رائیٹرز کے مطابق ان کے بہ قول روس سے شام کو جدید ہتھیاروں کی منتقلی اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھی جائے گی۔تاہم انھوں نے گذشتہ روز ہی منظرعام پر آنے والی اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس میں کہا گیا تھا کہ روس شامی حکومت کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل فروخت کرنے کی تیاری کررہا ہے۔