.

بنگلہ دیش: دو ہفتے قبل گرنیوالی فیکٹری سے خاتون کو زندہ نکال لیا گیا

منہدم عمارت میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں دو ہفتے قبل گرنے والی فیکٹری کے ملبے سے خاتون کو زندہ نکال لیا گیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بنگلادیش میں 24 اپریل کو آٹھ منزلہ پلازہ گرگیا تھا، جہاں تقریبا پانچ ہزار افراد کام کرتے تھے۔

چودہ دن بعد اس ملبے سے ایک خاتون ریشمی کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق زندہ بچ جانے والی خاتون کی شناخت ریشما کے نام سے ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش فوج کے ترجمان شاہین الاسلام کے مطابق زندہ ملنے والی خاتون کو ملٹری اسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے۔ ریشما بیم اور کالم کے درمیان خالی جگہ میں محفوظ رہیں۔ کچھ دن قبل آگ بجھانے کیلئے ڈالے گیا پانی پی کر انہوں نے روح اور جسم کا تعلق برقرار رکھا۔ تاہم عمارت کے ملبے سے اب تک 1038 لاشیں نکالی جا چکی ہیں ۔

ادھر بنگلہ دیش میں منہدم شدہ فیکٹری کمپلیکس کی عمارت کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ابھی مزید افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ڈھاکا کے نواح میں ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے آرمی آفیسر بریگیڈیئر صدیق العالم نے کہا کہ اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 41 ہو گئی ہے جس کے ساتھ یہ دنیا کی تاریخ کا بدترین انڈسٹریل سانحہ بن گیا ہے۔

عالم کا کہنا تھا کہ کچھ لاشیں محض ڈھانچے کی شکل پیش کر رہی ہیں اور ملبے سے اٹھنے والے تعفن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی بھی ملبے تلے مزید کچھ لاشیں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں سیڑھیوں کے نیچے سے بہت بڑی تعداد میں لاشیں ملی ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس وقت عمارت گری ہو گی اس وقت لوگوں نے خود کو سیڑھیوں کے نیچے محفوظ تصور کرتے ہوئے اس کے نیچے پناہ لی ہو گی۔

چوبیس اپریل کو 17 روز قبل منہدم ہونے والی عمارت میں حادثے کے وقت 3 ہزار سے زائد مزدور کام کر رہے تھے۔ غیر ملکی برانڈز کے لیے کپڑے بنانے والے فیکٹری کمپلیکس میں کام کرنے والے مزدور تقریباً 40 ڈالر ماہانہ (4 ہزار روپے پاکستانی) پر کام کر رہے تھے۔

حادثے کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین ورکرز کی ہے جن میں کچھ کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ پولیس نے لوگوں کو عمارت میں دراڑیں پڑنے کے باوجود کام کرنے کے لیے مجبور کرنے پر پلازہ کے مالک اور چار فیکٹری مالکان سمیت 12 افراد کو گرفتار کیا تھا۔