.

ترک سرحدی میونسپلٹی میں دو کار بم دھماکے، 40 افراد جاں بحق

ہمسایہ ملک انقرہ کی صلاحیتوں کا امتحان نہ لے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر قانون نے تصدیق کی ہے شامی سرحد کے قریب واقع ترک میونسپلٹی میں ہونے والے دو کار بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی ہے۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ جنوبی ترکی میں بارود سے بھری کاروں میں دھماکوں کے ڈانڈے شام میں جاری لڑائی یا انقرہ اور کرد باغیوں کے درمیان امن کے عمل سے ملتے ہیں۔

مسٹر ایردوآن کے ترک ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان کے مطابق: "ہم ایک حساس دور سے گزر رہے ہیں۔ اس نئے دور میں کرد مسئلے کا حل ممکن ہوا، جن لوگوں سے یہ نیا دور ہضم نہیں ہو رہا ہے وہ ہی ایسے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دھماکے ترک صوبے ھاتای میں ہوئے ہیں، جو شامی سرحد پر واقع ہے۔ اس سے قبل ترک وزیر داخلہ نے دھماکا خیز مواد سے لدی کاروں میں ہونے والے دھماکوں میں اٹھارہ افراد کے جان بحق ہونے کی اطلاع دی تھی۔

ترک حکام کے مطابق دونوں دھماکے جنوبی ترک صوبے ھاتای کی ریحانلی میونسپلٹی میں ہوئے۔ اس بلدیہ پر ماضی میں بھی شامی سرحد کے اس پار سے فائر کردہ راکٹ گرتے رہے ہیں۔

درایں اثنا ترک خبر رساں ادارے 'دوغان' نے اپنے نشریئے میں دعوی کیا تھا کہ ریحانلی میونسپلٹی دفتر کے قریب چار دھماکے ہوئے جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک دوسرے ترک عہدیدار نے اسی مقام پر دو دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔

یاد رہے کہ شامی بحران کی وجہ سے ترکی اس وقت تین لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اپنی سرحد میں قائم خیمہ بستیوں میں پناہ دیئے ہوئے ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد نو کلومیٹر طویل ہے۔ ہفتے کے روز رونما ہونے والا واقعہ دراصل کشیدگی کی ایک علامت ہے کہ جو شامی بحران کے تیسرے برس میں داخلے کی وجہ سے اب ہمسایہ ملکوں کو متاثر کر رہی ہے۔