.

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اشارے ملے ہیں:ترک وزیرخارجہ

خطرناک ہتھیاروں کی تصدیق کے لیے شامیوں کے مزید ٹیسٹ کیے جارہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ شام سے ترکی میں آنے والے زخمیوں کے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں اور ان کے نتائج سے شامی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اشارے ملے ہیں۔

احمد داؤد اوغلو نے اردن کے دارالحکومت عمان میں جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مزید تصدیق کے لیے حالیہ شواہد کے مزید ٹیسٹ کیے جارہے ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ان کا اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تبادلہ کیا جائے گا''۔

درایں اثناء برطانیہ نے بھی اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ شامی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔تاہم برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ شامی حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے وزیراعظم کے ایک ترجمان کا بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہمارے جائزے کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ابتدا شامی رجیم کی جانب سے ہوئی ہے مگر آج تک ہمارے پاس حزب اختلاف کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے''۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور ان کے مخالفین ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کررہے ہیں جبکہ امریکی صدر براک اوباما متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کا استعمال ان کے لیے ایک سرخ لکیر ہوگا۔تاہم امریکی عہدے دار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ شام کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل ٹھوس ثبوت چاہتے ہیں۔