رفسنجانی اور جلیلی بھی ایرانی صدارتی انتخاب لڑنے کے خواہاں

دونوں رہنماؤں نے آخری لمحے کاغذات جمع کرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی اور تہران حکومت کے جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی نے آئندہ ماہ کے صدارتی انتخابات لڑنے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔ انہی انتخابات میں صدر محمود احمدی نژاد کے اہم مشیر اور سمدھی بھی دوسروں کے ساتھ قسمت آزمانے جا رہے ہیں۔ ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق 14 جون کو ہونے والے انتخاب میں 500 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی کرائے ہیں۔

ایران میں صدارتی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی ہفتے کو آخری تاریخ تھی۔ اکبر ہاشمی رفسنجانی اور سعید جلیل نے وقت ختم ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے اپنے کاغذات پیش کیے۔ صدر بننے کی خواہشمند دیگر اہم شخصیات میں لرئاسية المتحدث باسم الخارجية وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مهمانپرست اور سابق وزیر خارجہ منوچر متكی بھی شامل ہیں۔

ان کے اس عمل سے ایران کے سیاسی حلقوں میں حیرت کی لہر دَوڑ گئی۔ وزارتِ داخلہ میں اپنے کاغذات جمع کروانے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے رفسنجانی نے کہا کہ میں خدمت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ یہ عوام کا حق ہے کہ وہ مجھے منتخب کریں یا نہ۔

رفسنجانی اگست میں 79 برس کے ہو جائیں گے۔ سن 2009ء میں صدر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کو متنازعہ قرار دینے پر ایران میں انتہائی قدامت پسند حلقوں نے رفسنجانی کو 'تنہا' کر دیا تھا۔

ان کی جانب سے انتخابات کو متنازعہ قرار دیے جانے پر عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی تھی۔ حکومت نے احتجاجی مظاہروں کو طاقت سے دبا دیا تھا جبکہ صحافیوں اور حکومت مخالف سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رفسنجانی کے ساتھ ساتھ سعید جلیلی نے بھی آخری لمحات پر کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری تنازعے پر بات چیت کے لیے اپنی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مسٹر جلیلی نے اپنے کاغذات جمع کروانے کے بعد صحافیوں سے بات نہیں کی۔ وہ 15 مئی کو استنبول میں یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین آشٹن سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران ایران کے جوہری تنازعے پر ہی بات ہو گی۔

آشٹن کے مطابق اس سے قبل ہونے والی ملاقات میں فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوئی تھی۔ مغربی طاقتوں کا ماننا ہے کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم تہران حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا نیوکلیئر پروگرام پرُامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کی وزارت داخلہ نے ہفتے کو بتایا کہ صدارتی انتخابات کے لیے 14 خواتین سمیت 450 افراد نے اپنے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ ایران کے صدر احمدی نژاد آئینی رکاوٹوں کے باعث تیسری مدت کے لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں