شامی باغیوں نے اقوام متحدہ کے یرغمال چارامن فوجیوں کو رہا کردیا

فلپائنی وزیرخارجہ نے گولان کے پہاڑی علاقے میں فوجیوں کی رہائی کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں نے اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی پہاڑی علاقے میں تعینات اقوام متحدہ کے امن دستے میں شامل چار فلپائنی فوجیوں کو اپنی حراست سے رہا کردیا ہے۔

فلپائنی وزیرخارجہ البرٹ ڈیل روساریو نے اتوار کو ایک بیان میں ان فوجیوں کی رہائی کی تصدیق کردی ہے اور مقبوضہ بیت المقدس میں ایک اسرائیلی عہدے دار نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں جو کچھ سمجھا ہوں ، یہ کہ ان فوجیوں کو جہاں سے اغوا کیا گیا تھا، وہ وہیں واپس چلے گئے ہیں''۔

شامی فوج کے خلاف محاذآراء باغی جنگجوؤں کے یرموک شہداء بریگیڈ نے گذشتہ ہفتے ان چاروں فلپائنی فوجیوں کوان کے تحفظ کے پیش نظر اپنی تحویل میں لینے کا اعلان کیا تھا اور فیس بُک پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''یرموک شہداء بریگیڈ نے شام اور مقبوضہ گولان کی چوٹیوں کے درمیان واقع علاقے وادیٔ یرموک میں تعینات اقوام متحدہ کی فورسز کے تحفظ کے لیے کارروائی کی ہے''۔

انھوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ شام کی سرکاری فوج کی جانب سے علاقے میں گولہ باری سے امن دستوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا ہوگئے تھے۔اس کے پیش نظر انھوں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے فلپائنی فوجیوں کو علاقے سے نکال لیا۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی علاقے میں اسدی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی تصدیق کی تھی۔

شام اور اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی چوٹیوں کے درمیان حد متارکہ جنگ (سیز فائر لائن) پر تعینات یہ چار امن فوجی الجملہ کے علاقے میں گشت پر مامور تھے۔اسی علاقے سے مارچ میں شامی باغیوں نے اقوام متحدہ کے اکیس فلپائنی فوجی مبصرین کو اغوا کر لیا تھا۔تاہم شامی باغیوں نے ان فوجیوں کو تین روز تک زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں