شام کا ترکی میں دو کار بم دھماکوں سے اظہارِ لا تعلقی

سرحدی قصبے میں دہشت گردی میں مرنے والوں کی تعداد 46 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی وزیر اطلاعات نے ترکی کے ان الزام کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے شام پر ترکی کے سرحدی علاقے میں ہفتے کی رات دو کار بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

شامی وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے اتوار کو دمشق میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''کسی کو بھی غلط الزامات عاید کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ شام نے اس طرح کی کوئی کارروائی کی ہے اور نہ کرے گا کیونکہ ہماری اقدار اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہیں''۔

شام کی جانب سے کسی عہدے دار کا ترکی کے جنوبی صوبے حاتائی میں واقع سرحدی قصبے ریحان علی میں ہفتے کے روز دو کاربم دھماکوں کے بعد یہ پہلا ردعمل ہے۔ان بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد چھیالیس ہوگئی ہے۔

ترکی کی حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے ایک سنئیر عہدے حسین چیلک نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ بم دھماکے میں شدید زخمی مزید تین افراد دم توڑ گئے ہِیں۔گذشتہ روز دو کاربم دھماکوں میں تینتالیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیں ترک وزیر اعظم خارجہ احمد داؤد اوغلو نے ایک ٹی وی انٹریو میں کہا کہ ان کے خیال میں شامی صدر بشارالاسد کے وفادار جنگجوؤں کا ان کار بم دھماکوں میں ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے۔ان کے بہ قول ترکی کے علاقے میں پناہ گزین شامی مہاجرین کا ان بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرینچ نے بم دھماکوں کو شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ دو سال سے جاری مسلح عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مہلک ترین حملہ قرار دیا ہے۔

ایران نے ترکی کے علاقے میں ان کار بم حملوں کی مذمت کی ہے۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے نائب وزیر خارجہ عباس عرقچی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا توڑ کرنا ہر ملک کا فرض ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ دہشت گردی کا گھناؤنا جرم ہے اورعام آدمی کو نشانہ بنانے والے اس طرح کے جرائم کی دنیا میں ہر کہیں مذمت کی جانی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں