بیرون ملک اقامتی طلبہ قصر کئے بغیر نمازیں جمع کر سکتے ہیں

قصر نماز کی اولین شرط سفر ہے، مقیم پر سفری حکم کا اطلاق نہیں ہوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عالم دین الشیخ صالح المغامسی نے فتوی دیا ہے کہ بیرون ملک تعلیم کی غرض سے جانے والے مسلمان طلبہ نمازوں کو قصر کئے بغیر جمع کر سکے ہیں۔ الشیخ المغامسی مدینہ منورہ کی مسجد قبا میں امام اور خطیب کے منصب پر فائز ہیں۔

سعودی روزنامہ 'عکاظ' کے مطابق انہوں نے اپنے ایک حالیہ فتوے میں قرار دیا ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے سعودی شہری اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان طلبہ پنچ وقت نمازیں جمع کر سکتے ہیں، تاہم انہیں ان نمازیوں کو قصر کے طور پر نہیں بلکہ مکمل رکعتوں کے ساتھ جمع کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایسے طلبہ پر سفر کی شرط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رمضان المبارک میں روزہ چھوڑنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

علامہ الشیخ المغامسی نے اپنے فتوے کی علت بیان کرتے ہوئے کہا ہے بیرون ملک تعلیم یا ملازمت کی خاطر جانے والوں کا سفر دراصل اقامت کے درجے میں آتا ہے۔ اس پر قصر نماز کے احکامات کا اطلاق نہیں ہوتا اور فقہ اسلامی میں نمازوں کا جمع کرنا قصر کے زمرے میں آتا ہے، تاہم قصر کے وجوب کی پہلی اور آخری شرط سفر ہے، تاہم سعودی عالم دین کے بہ قول نمازوں کو جمع کرنا اپنے وطن سے دور کسی دوسری جگہ پر مستقل سکوت کے دنوں میں بھی جائز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں