افغان طالبان کا چار ترکوں کو مستقبل قریب میں رہا کرنے کا عندیہ

جذبۂ خیرسگالی اور ترک عوام کے احترام میں چار یرغمالیوں کی رہائی کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں نے اپنے زیرحراست چار ترک انجینئروں کو مستقبل قریب میں رہا کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

طالبان نے گذشتہ ماہ صوبہ لوگر میں ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد آٹھ ترکوں سمیت گیارہ افراد کو اغوا کر لیا تھا اور ان میں سے چار ترک انجنئیروں کو اتوار کو رہا کردیا تھا۔

طالبان نے سوموار کو جاری کردہ ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ ان چار ترکوں کو ترکی کے مسلم عوام کے احترام ، خیر سگالی اور انسانی جذبے کے تحت رہا کیا گیا ہے اور باقی چاروں کو بھی مستقبل قریب میں رہا کردیا جائے گا۔تاہم انھوں نے اپنے زیرحراست ایک روسی اور ایک کرغز پائیلٹ اور ایک افغان کی رہائی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

گذشتہ روز ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ چار انجنئیروں کو ترک انٹیلی جنس افسروں کی قیادت میں مذاکراتی کوششوں کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ان چاروں افراد کو پاکستان کی سرحد کے ساتھ افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے ایک دوردراز علاقے میں چھوڑا گیا تھا اور مقامی حکام کے مطابق قبائلی زعماء نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کار کا کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں اپریل میں ایک ہیلی کاپٹر کی خراب موسم کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کے بعد طالبان مزاحمت کاروں نے اس میں سوار آٹھ ترک شہریوں کو اغوا کر لیا تھا اور ترک حکام تب سے ان کی بازیابی کے لیے طالبان سے بات چیت کررہے تھے جبکہ قبائلی سردار بھی یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے مذاکراتی عمل میں شریک رہے ہیں۔

پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع لوگر کے ضلع آزر میں میں ہنگامی طور پر اترنے والا ہیلی کاپٹر ایک ترک کمپنی کے زیراستعمال تھا اور وہ مشرقی شہر خوست سے دارالحکومت کابل جارہا تھا۔ہیلی کاپٹر ترک کمپنی خراسان کارگو ائیر لائنز کمپنی کا ملکیتی تھا۔اس میں ایک روسی اور ایک کرغز پائیلٹ کے علاوہ ایک افغان شہری سوار بھی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں