.

ترکی میں بم دھماکوں کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے:سلامتی کونسل

اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک ترکی میں دہشت گردی کی تحقیقات میں مدد دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ شام کی سرحد کے ساتھ واقع ترکی کے علاقے میں حالیہ کار بم دھماکوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

پندرہ رکن ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل نے ترکی کے جنوبی صوبے حاتائی کے سرحدی قصبے ریحان علی میں ہفتے کے روز دو کاربم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ان بم دھماکوں میں اڑتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سلامتی کونسل کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان میں بم دھماکوں میں ملوث افراد،ان کے منتظمین ،مالی معاونت کاروں اور اسپانسروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ دہشت گردی کے اس واقعہ کی تحقیقات میں مدد دیں۔

بیان میں بم دھماکوں میں مرنے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ترک حکومت نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر ان بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے لیکن دمشق حکومت نے ان میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

شام کے وزیراطلاعات عمران الزعبی نے الٹا ترکی کی حکومت پر بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآں کو ایک قاتل قرار دیا ہے۔

روس کے سرکاری ٹی وی آرٹی کی رپورٹ کے مطابق شامی وزیراطلاعات نے کہا کہ ''جو کچھ رونما ہوا ہے،اس کی تمام تر ذمے داری ترک حکومت اور خود ایردوآن پر عاید ہوتی ہے۔وہ ایک قاتل ہیں اور میں ان سے ان کے استعفے کا مطالبہ کرتا ہوں۔انھیں ترک اور شامی عوام کے خون پر سیاسی کیرئیر تعمیر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے''۔

ترکی کے سرحدی علاقے میں بم دھماکوں کے بعد دونوں ممالک میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ترکی صدر بشارالاسد کو شامی سکیورٹی فورسز کی حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائیوں پر کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔خود وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ان پر مخالفین پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور انھیں قصائی قرار دیا ہے۔