.

ماسکو میں امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ رنگے ہاتھوں گرفتار

پانچ سو یورو کرنسی نوٹ ،جدید آلات اور انسانی شکل وشباہت بدلنے والی اشیاء برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے دارالحکومت ماسکو میں امریکی سفارت خانے میں سفارت کار کے طور پرکام کرنے والے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ایک ایجنٹ کو ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔

روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس ( ایف ایس بی ،سابق کے جی بی) نے سی آئی اے کے اس ایجنٹ کی شناخت رائن سی فوگل کے نام سے کی ہے اور وہ ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے پولیٹیکل سیکشن میں تھرڈ سیکرٹری کے طور پر کام کررہا ہے۔

اس امریکی کو روس کی خفیہ ایجنسی کے ایک افسر کو جاسوسی کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور اس سے نقد رقم بھی برآمد ہوئی ہے۔روسی حکام نے بتایا ہے کہ اب اس کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر آیندہ اڑتالیس گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کو ماسکو میں متعین امریکی سفیر مائیکل مکفاؤل کو طلب کرکے ان سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی جائے گی۔

روس کے انگریزی میں نشریات پیش کرنے والے سرکاری ٹی وی چینل آر ٹی نے اپنی ویب سائٹ پر مسٹر فوگل کی تصاویر شائع کی ہیں جن میں وہ زمین پر بیٹھا ہوا ہے۔اس کا چہرہ نیچے کی جانب جھکا ہوا ہے اور گرفتاری کے لیے اس کے ہاتھ پیچھے کیے ہوئے ہیں۔ایک اورتصویر میں اس سے فیڈرل سکیورٹی سروس میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ایک تصویر میں اس سے برآمد ہونے والے پاسپورٹ ،پانچ سو یورونقدی کے نوٹ اور بعض خطوط بھی رکھے ہوئے ہیں۔

ان تصاویر میں امریکی ایجنٹ سے برآمد ہونے والے جاسوسی کے آلات بھی رکھے ہوئے ہیں۔ان میں وِگ ،کمپاس ،ٹارچ ،ماسکو شہر کے نقشے اور ایک پرانا موبائل فون بھی شامل ہے۔روسی خبررساں ایجنسیوں نے ایف سی بی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر فوگل کے پاس خصوصی فنی آلات ،ایک روسی شہری کو جاسوسی کے لیے بھرتی کرنے سے متعلق تحریری ہدایات ،نقد رقوم اور ظاہری شکل وشباہت تبدیل کرنے والی اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال میں امریکا کی خفیہ سروس کے ایجنٹ نے روس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں سے بعض کو متعدد مرتبہ بھرتی کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اس کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔