.

"رفسنجانی کی صدارت میں دمشق کے لئے ایرانی امداد کم ہو گی"

سابق صدر ایرانی مفادات کو گرتی حکومت سے نہیں جوڑیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں شام کے حوالے سے تہران کی سیاست میں تبدیلی آئے گی۔ دمشق میں بشار الاسد کی حکومت کو لامحدود مالی امداد ملنا بند ہو جائے گی۔ اس امر کا انکشاف رفسنجانی نے اہم مشیر اور ان کے قریبی دانشور صادق زیبا کلام نے کیا ہے۔

دوسری جانب سرکردہ بنیاد پرست صدارتی امیدوار غلام حداد عادل نے تمام قدامت پسند حلقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہاشمی رفسنجانی کا مقابلہ کرنے کرنے لَئے خود کو تیار کریں۔

زیبا کلام کا کہنا تھا کہ ہاشمی رفسنجانی کے ایرانی صدر بننے کی صورت میں تہران کی شامی پالیسی تبدیل ہو جائے گی۔ دمشق کو ملنے والی لامحدود امداد میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہاشمی رفنسجانی ایرانی مفادات کو بیرونی امداد کے سہارے کسی گرتی ہوئی حکومت سے وابستہ نہیں کریں گے۔

ادھر ایرانی مجلس شوری کے رکن اور پیش آئندہ صدارتی امیدوار غلام علی حداد عادل نے قدامت پسند ریڈیکلز سے اپیل کی ہےکہ وہ اپنی صفوں کو مضبوط کریں تاکہ رفسنجانی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

قدامت پسند نظریات کے پرچارک 'نسیم' ویب پورٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ انہوں نے قدامت پسند حلقوں کو خبردار کیا کہ وہ ہاشمی رفسنجانی اینڈ پارٹی سے معاملات کرتے ہوَئے احتیاط برتیں۔

ایران کے سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبی خامنہ ای کی اہلیہ کے والد حداد عادل نے مزید کہا کہ اگر بنیاد پرستوں کو اندازہ ہوا کہ ایران میں بنیاد پرست تحریک خطرے میں ہے تو ایسے میں وہ باہمی تعاون کی راہ اپنائیں گے۔