.

اقوام متحدہ:شام میں سیاسی انتقال اقتدارسے متعلق قرارداد پررائے شماری

شامی فوج کے خلاف برسرپیکار النصرۃ محاذ کو دہشت گرد قرار دلوانے کا معاملہ مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آج شام میں جاری خونریزی کے خاتمے اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو سیاسی انتقال اقتدار کے لیے ایک فریق کے طور پر تسلم کرنے سے متعلق قرار داد پر رائے شماری ہورہی ہے۔

قرار داد کا مسودہ قطر اور دوسرے عرب ممالک نے پیش کیا ہے اور اس میں شامی حکومت کے اپنے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی ہے۔بعض مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس قرار داد کے حق میں شام سے متعلق گذشتہ سال منظور کردہ قرارداد سے کم ووٹ پڑنے کی توقع ہے۔اگست 2012ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک سو ترانوے رکن ممالک میں سے ایک سو تینتیس نے قرار داد کی حمایت کی تھی۔

ایک مغربی سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ''اب شام میں اسلام پسندوں اور دہشت گردوں کا عنصر بھی دَرآیا ہے جس کی وجہ سے بعض ممالک کو تشویش لاحق ہے''۔شام کا اتحادی ملک روس اس قرارداد کی مخالفت کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے اس کا امریکا کے ساتھ شام کے بارے میں جس نئی بین الاقوامی کانفرنس بلانے پر اتفاق ہوا ہے،اس کے انعقاد میں رخنہ آسکتا ہے۔

اس قرارداد پر ایسے وقت میں رائے شماری ہورہی ہے جب امریکا اور بعض یورپی ممالک کی حکومتیں شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کے فوائد ونقصانات پر غور کررہی ہیں اوربرطانیہ اور فرانس نے شام کی درخواست پر فوج کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم النصرۃ محاذ کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد قراردلوانے کا معاملہ مؤخر کردیا ہے۔یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگجو گروپ کو دہشت گرد کے بجائے القاعدہ کا اتحادی قرار دلوانا چاہتے ہیں۔