.

الجزائر کے تیونسی سرحد پر 6000 فوجی دستے تعینات

مسلح سلفیوں کی دراندازی روکنے کے لئے سرحدی فضائی نگرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر خیالات کے مالک سلفی مسلک سے وابستہ جنگجووں کے تیونس میں ناجائز طور پر داخلہ روکنے کے لئے تیونس نے اپنی سرحد پر تقریبا چھے ہزار فوجی تعینات کئے ہیں۔

زمینی ناکہ بندی کے علاوہ گزشتہ ایک ہفتے سے الجزائری فضاَئیہ کے جاسوسی طیارے دن رات سرحدی راہداریوں کی فضائی نگرانی اور سروے کر رہے ہیں۔ تیونس اور الجزائر کی مشترکہ سرحد پر الجزائری فوج کی آٹھویں بٹالین کے خصوصی دستے، پیادہ اور پیرا ملٹری فوج کے جوان فرائض انجام دے رہے ہیں۔

الجزائر کی تیونس کے ساتھ مشرقی سرحد کی نگرانی کرنے والی الجزائر کی بری اور فضائی مسلح فوج تیونس کے فوجی کمان کے ساتھ کوارڈینشن کر رہی ہے تاکہ مغربی تیونس کے علاقے القصرین میں سرگرم انتہا پسند سلفی گروپوں کی بیخ کنی کی جا سکے۔

تیونسی فوجی سربراہ کے دورہ الجزائر کے بعد دونوں ملکوں کی بری اور فضائی افواج نے تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ہاٹ لائن کھول رکھی ہے تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں دارلحکومتوں کے درمیان فوری طور پر معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔

تیونس کے فوجی حکام نے اس بات پر بھی اپنی رضامندی ظاہر کی ہے کہ الجزائر سرحدی علاقے میں خفیہ نگرانی کا کام کرے تاکہ پہاڑی علاقوں کی نگرانی سخت کی جا سکے جن کے ذریعے دہشت گرد گروپ ایک دوسرے کے ملک میں آزادنہ آ جا سکتے ہیں۔

ایک باخبر ذریعے کے مطابق تیونسی مسلح فوج کے سربراہ کا الجزائر میں جنرل ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر ان تمام امور پر اتفاق رائے ہوا تھا، جس کے بعد نیشنل پیپلز آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹرز کی جانب سے الجزائری فوج کو جو بلیو پرنٹ جاری کیا گیا جس پر اب حقیقی طور پر عمل کیا جا رہا ہے۔