.

ایران:سخت گیروں کا اکبررفسنجانی اور مشاعی پر پابندی کا مطالبہ

دونوں صدارتی امیدواروں کو نااہل قرار دلوانے کے لیے شورائے نگہبان میں درخواست دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سخت گیر ارکان پارلیمان نے سابق صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی اور صدر محمود احمدی نژاد کے ایک قریبی ساتھی اسفندیار رحیم مشاعی پر آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کی رپورٹ کے مطابق قریباً ایک سو ارکان پارلیمان نے شوراَئے نگہبان (گارڈین کونسل) کے ہاں اپیل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں امیدواروں پر 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عاید کی جائے۔واضح رہے کہ شورائے نگہبان ہی کو صدارتی امیدواروں کی جانچ پڑتال کا حتمی اختیار حاصل ہے اور وہی ان کی اہلیت یا نااہلیت کا فیصلہ کرتی ہے۔

ایرانی پارلیمان کے ایک رکن جاوید کریمی قدوسی کا کہنا ہے کہ سابق صدر اکبر ہاشمی نے 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی حمایت کی تھی،اس لیے ان پر اب انتخاب لڑنے پر پابندی عاید کردی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ ارکان پارلیمان نے دوسرے امیدوار اسفندیار رحیم مشاعی کے غیر اسلامی رویے کے پیش نظر ان پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان دونوں صدارتی امیدواروں نے گذشتہ ہفتے شورائے نگہبان کے ہاں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور وہ ان کی جانچ پڑتال کے بعد رواں ماہ کے آخر میں حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کرے گی۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے گذشتہ ہفتے کے روز رحیم مشاعی کے ہمراہ جاکر وزارت داخلہ میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کے نام کا اندراج کرایا تھا جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی تھیں کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر ایرانی صدر کو سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایران کے انتخابی قوانین کے تحت کوئی سرکاری عہدے دار امیدواروں کی حمایت نہیں کرسکتا اور کسی امیدوار کے حق یا مخالفت میں سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی پابندی عاید ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ چھے ماہ قید اورچوہتر کوڑوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔

ایران کی ایک آن لائن نیوز سائٹ ''خبر'' نے سوموار کو اطلاع دی تھی کہ ''صدر نژاد نے مشاعی کو انتخابی امیدوار کے طور پر متعارف کرایا ہے''۔شورائے نگہبان کے ترجمان عباس علی کدخدائی نے کہا کہ ''کونسل کے مشاورتی بورڈ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ صدر کی جانب سے انتخابی امیدوار کو متعارف کرانے کا اقدام قوانین کی خلاف ورزی اور فوجداری جرم ہے اور ہم نے اس عدلیہ کو اس معاملے سے آگاہ کردیا ہے''۔

ایک ایرانی تجزیہ کار اور لکھاری کامیلہ انتخابی فرد کا کہنا ہے کہ''اگر صدر احمدی نژاد نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کیا ہے تو اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا شورائے نگہبان نہیں بلکہ عدلیہ کا کام ہے''۔

یادرہے کہ ایران میں جون 2009ء میں منعقدہ گذشتہ متنازعہ صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد نے دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی۔ایرانی حکومت پر ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فراڈ کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔تب ان کے مقابلے میں تین اصلاح پسند امیدوار تھے۔

تب انتخابی نتائج کے خلاف ایران میں کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور اصلاح پسندوں کے احتجاج کو سبز تحریک کا نام دیا گیا تھا۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا شورائے نگہبان اصلاح پسندوں کو آیندہ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کی اجازت دے گی یا نہیں لیکن اگر زیادہ تر صدارتی امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر انتخابی عمل کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوں گے۔