.

جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے شامی وفد کے نام نہیں ملے: ماسکو

جان کیری: دمشق کی عدم شرکت کے خطرناک مضمرات ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا ہے کہ اسے جنیوا میں ہونے والی دوسری کانفرنس میں شرکت کے لئے دمشق سے کوئی نام نہیں ملے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ماسکو کو شامی وفد کے ناموں کی کوئی فہرست نہیں دی ہے۔

انہی ذرائع کے مطابق ماسکو نے شام کو تجویز دی ہے کہ جنیوا کانفرنس میں شامی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ ولید المعلم کریں، تاہم ابھِی شامی صدر بشار الاسد نے اس بات کا جواب نہیں دیا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شامی حکومت کی جانب سے دوسری جنیوا کانفرنس میں شرکت سے انکار کے مضمرات سے آگاہ کیا ہے۔ جان کیری نے اسٹاک ہوم سے بتایا کہ مذاکرات میں ناکامی سے جاری جنگ کئی برس تک مزید بڑھ جائے گی اور ایسے میں مغربی دنیا شامی اپوزیشن کو اضافی امداد دینے پر مجبور ہو گی۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے خیال ظاہر کیا ہے کہ تمام فریقوں کو مذاکرات کے میز پر لانا انتہائی مشکل امر ہو گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدر باراک اوباما شام کے مسئلے پر آئندہ بھی مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن برطانوی امریکی اتحاد کا فوری نوعیت کے عالمی مسائل کے حل کے لیے اثر و رسوخ محدود ہے۔

پھر جلد ہی واضح ہو گیا کہ دونوں ہی شام کے خونریز تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے رکھنے کے حامی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نئی پیش رفت کی کوشش روس کے ساتھ ایک نئی سربراہی ملاقات کے ذریعے کی جائے گی۔

تھکن کے اس احساس کا خاتمہ ان حقائق کے باوجود ممکن نہیں کہ شامی تنازعے میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نظر آنے والی شدت زیادہ ہوتی جا رہی ہے، کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے خلاف شکایتیں بھی کی جا رہی ہیں، دمشق میں اقتدار ابھی تک ایک ایسے ڈکٹیٹر کے پاس ہے، جو طاقت کا خونریز استعمال کرتا ہے اور اب تک 80 ہزار کے قریب انسان ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

ابھی تک اس بات کے کوئی آثار نہیں کہ اینگلو سیکسن اتحادیوں کے اعلیٰ ترین نمائندے کچھ کر گزرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نہ کوئی ممنوعہ فضائی زون، نہ اپوزیشن کو مسلح کرنے کا فیصلہ اور نہ ہی شام کے فضائی دفاعی نظام پر حملوں کا وہ فیصلہ جس کا واشنگٹن میں کم از کم کچھ سیاستدان بہرحال مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ کیمرون اور اوباما شام کے تنازعے میں آئندہ بھی روسی صدر پوٹن کی طرف سے حمایت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ دونوں رہنما صدر پوتن کا اتنا ذکر کرتے ہیں کہ واضح ہو جاتا ہے کہ واشنگٹن میں روسی صدر کی صورت میں وہ مذاکراتی ساتھی موجود ہی نہیں جو شام کے حالات پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔

شام میں جاری بحران کے حوالے سے صورتحال پر غور وخوص کے لیے فرینڈز آف سیریا کا اجلاس اگلے ہفتے اردن میں ہو رہا ہے۔ اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان صباح رافعی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، امریکا، برطانیہ، فرانس، ترکی، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ اگلے ہفتے کے وسط میں اردنی دارالحکومت عمان میں ملاقات کریں گے۔ امریکا اور روس کی طرف سے گزشتہ ہفتے اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔