.

دس نہیں، بس دو فیصد

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے مبصرین کی یہ رپورٹ درست نہیں کہ پاکستان کے الیکشن90فیصد حد تک درست ہوئے اور دس فیصد حلقوں میں بدانتظامی اور دھاندلی ہوئی۔۔ دس فیصد نہیں، صرف دو فیصد دھاندلی ہوئی۔ بہرحال، دس فیصد کی بات درست ہوتی بھی تو پاکستان کے لئے یہ خوشی کی خبر ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار 90 فیصد الیکشن منصفانہ ہوئے۔ یہ دس فیصد کا داغ چھوٹا نہیں لیکن ہمارے لئے تو ایسا ہے جیسے ہر بار میٹرک کے امتحان میں فیل ہونے والا امیدوار دسویں یا گیارہویں ’’ٹرائی‘‘ میں ایک دم ہائی سیکنڈ کلاس نمبر لے آئے یعنی فرسٹ ڈویژن سے کچھ ہی نمبر کم!
دس فیصد بد انتظامی میں لاہور کا ایک حلقہ بھی شامل ہے۔ وہ حلقہ جہاں سے سعد رفیق جیتے۔ عام رائے یہ ہے کہ اس حلقے میں دھاندلی ہوئی لیکن ساتھ ہی یہ اتفاق رائے بھی ہے کہ اس دھاندلی سے انتخابی نتیجہ نہیں بدلا۔ سعد رفیق کو30ہزار کی لیڈ ملی،دراصل یہ لیڈ 20سے25 ہزار کے درمیان تھی۔ بلوچستان سے نامعلوم قوتوں نے ان امیدواروں کے جیتنے کا رزلٹ رکوا دیا ہے جو بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کیوں؟۔ جس طرح قوّتیں نامعلوم ہیں اسی طرح وجہ بھی نامعلوم ہے۔سندھ میں جیکب آباد سمیت دو تین حلقوں میں فیصلہ کن دھاندلی ہوئی۔

یورپی یونین کے وفد کے مطابق زیادہ اور سنگین دھاندلی کراچی میں ہوئی لیکن متحدہ کہتی ہے کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔ متحدہ کی بات ہی درست ہے اس لئے کہ متحدہ کے امیدوار اصل میں الیکشن سے پہلے ہی جیت چکے ہوتے ہیں۔ ایک لاکھ ووٹ ہر امیدوار گھر سے لے کر نکلتا ہے۔ یعنی اس سے پہلے کہ پولنگ شروع ہو، ایک لاکھ ووٹ اسے پڑ چکے ہوتے ہیں۔ باقی کے پچاس پینسٹھ ہزار ووٹ بونس ہوتے ہیں چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔

یہ آٹھ فیصد دھاندلی جس کا ذکر یورپی مبصرین نے دس فیصد میں ملا کرکیا۔ اصل میں صرف دو فیصد دھاندلی ہے ۔اس دو فیصد کی اصلاح ضرور ہونی چاہئے۔8فیصد کو اس کے حال پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے کسی اور کا نہیں، ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کا مشورہ (بزبان حال و اعمال)ہے۔

کراچی سے ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ کے بعض امیدواروں کو فی سیکنڈ5ووٹ ملے۔ اوسطاً فی امیدوار ڈیڑھ لاکھ ووٹ پڑے۔

ایسا اس لئے ہے کہ پولنگ کا وقت5بجے ختم ہوگیا تھا۔ پولنگ اگلی شام تک جاری رکھنے کی اجازت مل جاتی تو فی امیدوار چھ چھ لاکھ ووٹ ملتے۔
____________________________
ایوان صدر نے تیسرے روز نواز شریف کو انتخابی فتح کی مبارک دے دی۔ اس سے پہلے بعض اخبارات کی اطلاع تھی کہ نواز شریف کی غیر متوقع کامیابی پر ایوان صدر کو سانپ سونگھ گیا۔

اگر سانپ سونگھنے کی بات درست ہے تو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ وہ کون ساسانپ تھا جو سونگھ گیا۔ سانپوں کی بے شمار قسمیں ہیں۔ اور ہر ایک کے سونگھنے کا اثر بھی الگ الگ ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ صحرائی سانپوں میں سے ایک ایسا ہے جس کا سونگھا ہوا تین نہیں تو اڑھائی دن کے لئے بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ضرور یہ وہی صحرائی سانپ ہوگا۔ جس کا اثر تیسرے دن ختم ہوا اور جونہی ختم ہوا، ایوان صدر ہوش میں آگیا اور مبارکباد دے ڈالی۔ اب تحقیق کرنے والی بات یہ رہ جاتی ہے کہ نیم سرد پہاڑی علاقے میں صحرائی سانپ آیا کیسے؟ شاید ملاقات کے لئے آنے والا کوئی بندہ صحرائی چھوڑ گیا ہو۔
_____________________________
یہ تو ایوان صدر کا معاملہ تھا، عمران خان کو کیا شے سونگھ گئی کہ انہوں نے بھی تین دن تک رسمی مبارک باد کا ایک سطری ’’ایس ایم ایس ‘‘ بھی روکے رکھا۔

انہیں شاید ’’ذاتی دشمنی‘‘ کا غصہ سونگھ گیاتھا۔ یہ ذاتی دشمنی کس بات کی ہے۔ کوئی نہیں جانتا۔ تحریک انصاف کی قیادت بھی نہیں ۔اچھی بات ہے کہ تیسرے دن غصہ کچھ کم ہوا اور مبارکباد دینے کا اعلان کر دیا ورنہ لوگ کہتے عمران کیسے سپورٹ مین ہیں کہ ان کے پاس بلّا تو ہے لیکن سپورٹس مین سپرٹ نہیں۔
_____________________________
ایک بڑے انگریزی اخبار نے اپنے ادارے میں لکھا ہے کہ میڈیا نے عمران کو کامیابی کا جو ھوّا کھڑا کیا ہوا تھا وہ غلط نکلا۔ اخبار نے حیرت ظاہر کی ہے کہ میڈیا نے اتنے غلط اندازے کیوں لگائے۔

یہ غلط اندازے غلطی سے نہیں لگائے گئے تھے، کسی کی فرمائش پر لگائے گئے تھے ۔اداریہ نویس کو معلوم نہیں کہ قبضۃ الملک نے-21ارب کی سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ21ارب کی سرمایہ کاری الیکشن کے دن پولنگ بند ہونے تک سر چڑھ کر بولتی رہی۔ رات کے کسی پہر خاموشی سے اتری اور چھپتی چھپاتی کسی بحریاتی بدر د میں گھس کر گم ہوگئی!
_____________________________
الطاف حسین نے لندن سے اپنے ٹیلی فونک خطاب کے اگلے روز اس خطاب کی تردید کر دی۔ زیادہ وضاحتی تردید متحدہ کے رہنماؤں نے کی اور کہا الطاف بھائی نے ملک سے علیحدگی کی بات نہیں کی۔ان کا وہ مطلب نہیں تھا جو لیا گیا۔

الطاف حسین نے ایک روز پہلے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کا مینڈیٹ پسند نہیں تو اسے پاکستان سے الگ کر دے۔

متحدہ کے رہنماؤں نے کہا کہ الطاف بھائی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ الطاف بھائی نے کہا تھا کہ جب کسی قوم کو دیوار سے لگا دیا جائے تو وہ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے۔ متحدہ کے رہنماؤں نے کہا کہ الطاف بھائی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ الطاف بھائی نے کہا تھا کارکنوں کو حکم دیا تو تین تلوار پر مظاہرین کو چھلنی کر دیں گے۔ متحدہ کے رہنماؤں نے کہا کہ الطاف بھائی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ الطاف بھائی نے کہا تھا، ایسا نہ ہو الیکشن کمیشن کو کراچی میں رہنے کی جگہ ہی نہ ملے۔ متحدہ کے رہنماؤں نے کہا کہ الطاف بھائی کا یہ مطلب نہیں تھا۔الطاف بھائی جب ڈرون حملے کر رہے تھے تو رابطہ کمیٹی کے فاروق ستار نے سر پکڑ لیا اور بظاہر خاصی دیر پریشانی کے عالم میں سر پکڑے بیٹھے رہے۔ ضرور پکڑا، لیکن ان کا مطلب یہ نہیں تھا۔
_____________________________
خبر ہے کہ الیکشن کے نتائج جوں جوں آتے گئے، اپنے ’’محل‘‘ میں قید پرویز مشرف کی بے چینی بڑھتی رہی۔ وہ مسلسل ٹہلتا رہا اور سگار پھونکتا رہا اور (بقول احمد رضا قصوری کے )’’کافی‘‘ کے پیمانے بھی لنڈھاتا رہا۔
مسلم لیگ کی جیتی ہوئی نشستوں کی گنتی 120 تک پہنچی تو پیمانہ صبر لبریز ہوگیا، کافی کا پیمانہ پھینکا اور خواب آور گولیوں کی شیشی اٹھالی۔ اور کچھ گولیاں کھا کر سوگیا۔

غیر معتبر ذرائع کے مطابق مشرف نے پہلے ارادہ کیاتھا کہ شیشی کی ساری گولیاں ایک بار ہی کھا لے گا لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ اور سوچا کہ’’ نہیں،قسطوں ہی میں ٹھیک ہے‘‘۔
_____________________________
سب سے اہم انتخابی ’’اپ سیٹ‘‘ راولپنڈی سے شیخ رشید کی کامیابی ہے۔
انہیں راولپنڈی کے شہریوں نے ووٹ نہیں دیئے۔ باقی پنجاب بھر کے برعکس، یہ واحد حلقہ تھا جہاں پیپلزپارٹی کے حامیوں نے بھی اپنا ووٹ تحریک انصاف کو نہیں دیا۔ گویا شیخ رشید کو پیپلزپارٹی کا ووٹ بھی نہیں ملا۔ جماعت اسلامی نے بھی انہیں ووٹ نہیں دیا۔

وہ کون تھے جنہوں نے ’’جوق در جوق‘‘ شیخ صاحب کو ووٹ دیا؟ دل ہی دل میں اندازہ لگائیے۔ دل ہی دل میں اندازہ لگانے میں کوئی خطرہ نہیں۔
_____________________________
نواز شریف نے حلف برداری میں بھارتی وزیراعظم کو شرکت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیا کسی بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کو کبھی ایسی دعوت دی؟ نواز شریف کی خیر سگالی قابل داد ہے لیکن ایک بار پھر غور کر لیں، زیادہ قابل داد تو نہیں ہوگئی؟
بھارت سے اچھے تعلقات میں فائدہ ہے لیکن کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو، ورنہ کیا فائدہ۔
ایک خیال سامنے لایا گیا ہے امریکہ کی غلامی سے بھارت کی دوستی اچھی۔ نکتہ خوب ہے لیکن مسئلہ کشمیر کا کیا کریں گے؟ مشرف نے اسے دفن کیا تھا، کیا دفن ہی رہے گا؟

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.