افغان دارلحکومت میں نیٹو قافلے پر حملہ، چھے شہری جاں بحق

امریکی وزیر دفاع کے دورہ کابل کے بعد پہلا بڑا حملہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نیٹو فوجی قافلے پر طاقتور کار خود کش حملے میں چھ افغان شہری جاں بحق ہو گئے۔ جمعرات کو ہونے والا دھماکہ شہر میں گزشتہ دو مہینوں سے بھی زائد عرصے میں پہلا بڑا حملہ تھا۔

حکومتی عہدے داروں نے بتایا کہ شہر کے جنوب مشرقی رہائشی علاقے شاہ شہید میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے عام شہری تھے۔ تاہم نیٹو اتحادی جانی نقصان کے حوالے سے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔
واقعہ میں نیٹو کی ایک سپورٹس گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ متاثرہ مقام سے ملحقہ سڑکوں کی مکمل ناکہ بندی کے علاوہ امریکی فوجی بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان حشمت سٹانکزئی نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح آٹھ بجے دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک ٹویوٹا کرولا کار کو غیر ملکی فوجی قافلے کے قریب دھاکے سے اڑا دیا۔

افغان وزارت صحت کے عہدے دار سید کبیر امیری کے مطابق مقامی ہسپتالوں نے واقعہ میں چھ ہلاکتوں جبکہ سینتیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لاشیں بری طرح مسخ ہوئی ہیں اور ان کی شناخت ممکن نہیں۔

انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کے ترجمان نے کابل میں اتحادی فوج کی گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے کہا کہ واقعہ کی مزید تفصیلات جلد ہی جاری کر دی جائیں گی۔ ایک مقامی نوجوان نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اپنے گھر پر تھے کہ ایک طاقتور دھماکے نے ان کی بلڈنگ کو لرزا دیا۔

"ہماری تمام کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں، میں باہر بھاگا تاکہ سکول سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو واپس لا سکوں۔ میں نے دیکھا کہ خون میں نہائے پانچ سے چھ زخمیوں کو پولیس گاڑیوں میں لے جایا جا رہا ہے"۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں کم از کم دس گھر بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ نو مارچ کو امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے دورہ کے موقع پر سائیکل سوار ایک خود کش حملہ آور نے وزارت دفاع کی عمارت کے باہر نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

رواں ہفتے منگل کو قندھار میں سڑک کنارے بم دھماکے میں تین امریکی فوجی جبکہ پیر کو ہلمند میں خود کش بمبار کے حملے میں جارجیا کے تین فوجی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں