کوئی خاتون صدارتی امیدوار نہیں ہوسکتی:ایرانی عالم دین

30 خواتین امیدواروں کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکانات معدوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی شورائے نگہبان کے رکن آیت اللہ محمد یزدی نے کہا ہے کہ خواتین ملک میں ہونے والے آیندہ صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہوسکتی ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر نے آیت اللہ یزدی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''قانون ایوان صدر میں ایک خاتون کے موجود ہونے یا کسی خاتون کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا ہے''۔

ان کے اس بیان کے بعد 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی خواہش مند قریباً تیس خواتین کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ آیت اللہ محمد یزدی کے اس بیان سے قبل بھی خواتین کے صدارتی امیدوار بننے اور انتخاب جیتنے کے امکانات معدوم تھے۔

ایرانی خواتین ماضی میں بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بطور امیدوار اپنا اندراج کراتی رہی ہیں لیکن شورائے نگہبان ماضی میں کاغذات کی جانچ پڑتال کے وقت انھیں انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دیتی رہی ہے۔البتہ خواتین کو پارلیمان کا انتخاب لڑنے کی اجازت ہے اور وہ پارلیمان کی رکن بھی منتخب ہوتی رہی ہیں۔

شورائے نگہبان تمام صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے 686 امیدواروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ان میں سے اہل امیدواروں کی حتمی فہرست آیندہ منگل کو جاری کی جائے گی اور توقع ہے کہ اس میں چند ایک نام ہی ہوں گے۔

صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اب تک جو اہم نام سامنے آئے ہیں،ان میں سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ،جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی ،تہران کے میئر محمد باقر قلی باف ،صدر محمود احمدی نژاد کے قریبی ساتھی اسفندیار رحیم مشائی اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی شامل ہیں۔

علی اکبر رفسنجانی کو اصلاح پسندوں گروپوں کی حمایت حاصل ہے لیکن دوسری جانب سخت گیر ان پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سخت گیروں کا سابق صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی حمایت کی تھی۔

ایرانی پارلیمان کے ارکان نے صدر احمدی نژاد کے مشیر اسفندیار رحیم مشائی کے غیر اسلامی رویے کے پیش نظر ان پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ صدرنژاد نے گذشتہ ہفتے کے روز رحیم مشائی کے ہمراہ وزارت داخلہ میں جاکر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کے نام کا اندراج کرایا تھا جس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر ایرانی صدر کو سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے انتخابی قوانین کے تحت کوئی سرکاری عہدے دار امیدواروں کی حمایت نہیں کرسکتا اور کسی امیدوار کے حق یا مخالفت میں سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی پابندی عاید ہے۔ان قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ چھے ماہ قید اورچوہتر کوڑے مارنے کی سزا دی جاسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں