ترکی میں کار بم دھماکوں کے الزام میں 4 مشتبہ افراد گرفتار

عدالت نے 4 مشتبہ ملزموں کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا،13 زیرحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے ریحانلی (الریحانیہ)میں گذشتہ ہفتے کے روز ہوئے دو کاربم دھماکوں کے الزام میں چارمزید مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق جنوبی شہر عدنہ میں پراسیکیوٹرز نے بم دھماکوں کے الزام میں بدھ کو آٹھ مشتبہ افراد کو عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے ان میں سے چار کو رہا کردیا ہے اور باقی چار کو ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ان پر کیا الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

ترک پولیس نے ریحانلی میں بم دھماکوں کے الزام میں اب تک سترہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ان میں سے چار کی رہائی کے بعد باقی تیرہ مشتبہ ملزموں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔نوافراد کو گذشتہ سوموار کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ان گرفتاریوں سے ایک روز قبل ہی شام نے ترکی کو دہشت گردی کے اس واقعہ کی مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کی تھی۔شامی وزیراطلاعات عمران الزعبی نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ''اگر وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت دونوں ممالک کی مشترکہ اور شفاف تحقیقات چاہتی ہے تو ہمیں سچائی کی تلاش کے لیے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔شامی اور ترک عوام کو سچائی سے آگاہ کیا جانا چاہیے''۔

تاہم ان کی اس پیش کش کو وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے سختی سے مسترد کردیا۔انھوں نے انقرہ سے واشنگٹن روانہ ہوتے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دمشق میں برسراقتدار انتظامیہ غیر قانونی ہے۔ہم ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں جو عوام کا نمائندہ ہی نہیں ہے''۔

ترکی کے جنوبی صوبے حاتائی کے شام کی سرحد کے ساتھ واقع قصبے ریحانلی میں ہفتے کے روز دو کاربم دھماکوں مرنے والوں کی تعداد اکاون ہوگئی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کار بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور ان میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زوردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں