بشار الاسد کو تشدد سے روکنے کا کوئی جادوئی فارمولا نہیں: اوباما

امریکا اور ترکی شامی صدر کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے دباؤ جاری رکھیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو تشدد سے روکنے کے لیے کوئی جادوئی فارمولا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود امریکا اور ترکی انھیں اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے دباؤ جاری رکھیں گے۔

وہ وائٹ ہاؤس ،واشنگٹن میں ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم بشارالاسد کی حکومت پر دباؤ جاری رکھیں گے اور اس ضمن میں شامی حزب اختلاف سے مل کر کام کریں گے''۔

براک اوباما نے کہا:''ہم دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنا ہوگا لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی جادوئی فارمولا نہیں ہے کہ جس سے ہم شام میں غیرمعمولی تشدد اور مشکل صورت حال سے نمٹ سکیں''۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بحران کا ایک ہی حل ہے کہ بشارالاسد اقتدار ایک عبوری حکومت کے حوالے کردیں۔اس عمل میں ترکی اہم کردار ادا کرے گا۔انھوں نے بتایا کہ انھیں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت مہیا کیے گئے ہیں لیکن ابھی وہ مزید شواہد کے منتظر ہیں کہ وہاں دراصل ہوا کیا ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے اس موقع پر کہا کہ شام میں امریکا اور ترکی کا مقصد ایک ہے اور وہ دونوں خانہ جنگی کا شکار ملک میں تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انھوں نے نیوزکانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا کہ وہ آیندہ ماہ غزہ اور مغربی کنارے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ماضی میں ترک وزیراعظم پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کو مؤخر کرنے پر زور دیتا رہا ہے تاکہ اس کی اسرائیل اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے کوششوں کو نقصان نہ پہنچے۔

طیب ایردوآن نے کہا کہ ''وہ اس امید کے ساتھ فلسطینی علاقوں میں جانا چاہتے ہیں کہ ان کے اس دورے سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن میں مدد ملے گی''۔ان کا کہنا تھا کہ ''وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے ضمن میں اس دورے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں