ترکی کے سرحدی علاقے میں ایندھن کے ٹینک میں دھماکا،10 ہلاکتیں

ریحانلی میں دوکاربم دھماکوں کا مرکزی مشتبہ ملزم شام فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں ایندھن کا ایک ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ہے جس کے نتیجے میں دس افراد مارے گئے ہیں۔

ایک مقامی عہدے دار نے بتایا ہے کہ سرحدی علاقے میں اسمگلروں نے پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد ایندھن کے ایک ڈپو کو نذرآتش کردیا۔یہ غیر قانونی ڈپو شام کی سرحد کے نزدیک ترکی کے ایک چھوٹے گاؤں میں تین منزلہ عمارت کے تہ خانے میں قائم کیا گیا تھا۔

ترکی کی اناطولیہ نیوز ایجنسی نے جنوبی شہر حاتائی کے گورنر جلال الدین لیک سیز کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشتبہ اسمگلروں نے سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن سے بچنے کی کوشش میں ایندھن کو آگ لگائی ہے۔

سرحدی علاقے میں اس دھماکے سے چھے روز قبل دو کار بم دھماکے ہوئے تھے جن میں اکاون افراد مارے گئے تھے۔ترکی نے جمعہ ہی کو ان دونوں کار بم دھماکوں کے مرکزی مشتبہ ملزم کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ واقعے میں ملوث دو مشتبہ ملزم ابھی تک مفرور ہیں۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ ملزم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے بم دھماکوں میں استعمال کی گئی دونوں گاڑیاں خرید کی تھیں اور اسے ترکی سے شام کی جانب فرار ہوتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔

ترکی کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے ریحانلی (الریحانیہ) میں دو کاربم دھماکوں کے الزام میں گذشتہ روز بھی چارمزید مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔جنوبی شہر عدنہ میں پراسیکیوٹرز نے ان بم دھماکوں کے الزام میں بدھ کو آٹھ مشتبہ افراد کو عدالت میں پیش کیا تھا۔عدالت نے ان میں سے چار کو رہا کردیا اور باقی چار کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں