.

روس کی طرف سے شام کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی، امریکا کی تشویش

"دمشق کو اسلحہ فراہمی پر جنگ طول پکڑ سکتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی طرف سے شام کو اینٹی شپ میزائل دیے جانے پر امریکا نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شامی حکومت ’دلیر‘ ہو جائے گی اور وہاں جاری خانہ جنگی کو ہوا ملے گی۔

امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل مارٹن ڈیمپسی نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر تصدیق کی کہ روس نے شام کو بحری جہازوں کو تباہ کرنے والے خطرناک کروز میزائل دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو حکومت کے اس فیصلے کے برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈیمپسی کے بقول ان جدید ہتھیاروں کے باعث شامی حکومت بہادر ہو جائے گی اور شام میں جاری مصائب اور تکالیف میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ پینٹا گون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ روس کی طرف سے کیا گیا یہ فیصلہ نامناسب وقت پر کیا گیا ہے اور اس کے برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اینٹی شپ میزائل کی بدولت شام بحری جہازوں کی مدد سے کیے جانے والے کسی بھی بیرونی فضائی حملے کا جواب دینے کے قابل ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ دمشق حکومت نو فلائی زون قائم کرنے کی کوشش کو بھی ناکام بنا سکتی ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ماسکو حکومت کی طرف سے شام کو دیے جانے والے ان اینٹی شپ کروز میزائل نظام میں ریڈار بھی نصب ہیں۔ امریکی فوجی حکام کے حوالے سے اخبار نے بتایا ہے کہ اس سے قبل بھی روس نے شام کو 'یاک ہونٹس' کروز میزائل فراہم کیے تھے تاہم وہ ریڈار سے لیس نہیں تھے۔

اسی پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا کہ امریکا روس کے ساتھ مل کر شامی تنازعے کے حل کی کوشش کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے کہ شامی بحران کو علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ واشنگٹن حکومت کی پہلی ترجیح سفارتکاری ہے لیکن اس ضمن میں فوجی ایکشن کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ہے۔

امریکی حکومت روس پر زور دیتی رہی ہے کہ اس مخصوص وقت میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو اسلحہ فراہم نا کیا جائے۔ اس تناظر میں واشنگٹن نے تحفظات ظاہر کیے ہیں کہ ماسکو شام کو ایس ۔ 300 ایئر ڈیفنس ہتھیاروں کی طے شدہ ڈیلیوری روک دے۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ ان جدید ہتھیاروں کے شامی حکومت کے پاس جانے سے وہاں بیرونی فوجی مداخلت کی کوشش پیچیدہ ہو سکتی ہے اور یہ ہتھیار لبنان میں متحرک حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ہاتھ بھی لگ سکتے ہیں۔

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ ان جدید عسکری سسٹمز کے ہاتھ آ جانے کے بعد صدر اسد کی غلط فہمی میں اضافہ ہو سکتا ہے کہ وہ اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی کہہ چکے ہیں کہ شام کو اسلحے کی فروخت سے صورتحال مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔