ہیکروں کی جانب سے سعودی حکومت کی ویب سائٹس پر حملے

حملے بیرون ملک سے متعدد IPs پر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ بیرون ملک سے کئے جانے والے سائبر حملوں کے بعد متعدد سرکاری ویب سائٹس پر مختصر دورانیوں کے لئے خلل کا شکار ہوئیں تاہم جلد ہی سائبر حملوں کا توڑ تلاش کر لیا گیا جس کے بعد سے اب ویب سائٹس معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے نامعلوم ذرائع نے سعودی نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کو بتایا کہ متعدد ملکوں میں دسیوں انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریسسز پر 'مربوط اور منظم' حملہ کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ بڑی تعداد میں سروس 'ریکوئسٹس' کے بعد 'کریش' کر گئی تھی تاہم اسے ضروری فنی اصلاح کے بعد دو گھنٹے بعد ہی دوبارہ آن لائن کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں سروس ریکوئسٹ ارسال کرنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ کاروباری، حکومتی ایجنسیاں اور حساس آپریٹروں کو ہیکروں اور مجرموں کے انتہائی ماہرانہ سائبر حملوں کا چیلنج درپیش ہے۔

گزشتہ برس سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی 'ارامکو' پر ہونے والے سائبر حملے میں تیس ہزار کمپیوٹر ناکارہ ہو گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی پر ہونے والا سائبر حملہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا تھا۔

اس حملے میں 'شامون' نامی کمپیوٹر وائرس کا استعمال کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروپ کا کہنا تھا کہ کہ آرامکو سعودی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس آمدنی کو، بہ قول گروپ، بحرین اور شام میں ہونے والے مظالم میں استعمال کیا جاتا ہے۔

جمعہ کے روز امریکی اخبار فائنینشل ٹائمز کی ویب سائٹ اور ٹیوٹر فیڈ اکاونٹ ہیک کر لیا گیا تھا۔ بظاہر ان اکاونٹ کو شامی صدر بشار الاسد کے حامی آن لائن رضاکاروں 'سیرئین الیکڑانک آرمی' نے ہیک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں