.

ہیکروں کی جانب سے سعودی حکومت کی ویب سائٹس پر حملے

حملے بیرون ملک سے متعدد IPs پر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ بیرون ملک سے کئے جانے والے سائبر حملوں کے بعد متعدد سرکاری ویب سائٹس پر مختصر دورانیوں کے لئے خلل کا شکار ہوئیں تاہم جلد ہی سائبر حملوں کا توڑ تلاش کر لیا گیا جس کے بعد سے اب ویب سائٹس معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے نامعلوم ذرائع نے سعودی نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کو بتایا کہ متعدد ملکوں میں دسیوں انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریسسز پر 'مربوط اور منظم' حملہ کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ بڑی تعداد میں سروس 'ریکوئسٹس' کے بعد 'کریش' کر گئی تھی تاہم اسے ضروری فنی اصلاح کے بعد دو گھنٹے بعد ہی دوبارہ آن لائن کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں سروس ریکوئسٹ ارسال کرنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ کاروباری، حکومتی ایجنسیاں اور حساس آپریٹروں کو ہیکروں اور مجرموں کے انتہائی ماہرانہ سائبر حملوں کا چیلنج درپیش ہے۔

گزشتہ برس سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی 'ارامکو' پر ہونے والے سائبر حملے میں تیس ہزار کمپیوٹر ناکارہ ہو گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی پر ہونے والا سائبر حملہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا تھا۔

اس حملے میں 'شامون' نامی کمپیوٹر وائرس کا استعمال کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروپ کا کہنا تھا کہ کہ آرامکو سعودی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس آمدنی کو، بہ قول گروپ، بحرین اور شام میں ہونے والے مظالم میں استعمال کیا جاتا ہے۔

جمعہ کے روز امریکی اخبار فائنینشل ٹائمز کی ویب سائٹ اور ٹیوٹر فیڈ اکاونٹ ہیک کر لیا گیا تھا۔ بظاہر ان اکاونٹ کو شامی صدر بشار الاسد کے حامی آن لائن رضاکاروں 'سیرئین الیکڑانک آرمی' نے ہیک کیا ہے۔