الجزائری صدر کی حالت بگڑنے سے متعلق رپورٹس پر اخبارات سنسر

عبدالعزیز بوتفلیقہ کی 27 اپریل سے پیرس کے اسپتال میں زیرعلاج رہنے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الجزائر کی حکومت نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی صحت بگڑنے سے متعلق رپورٹس شائع کرنے پر دو اخبارات کو سنسر کردیا ہے۔

ان اخبارات نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ 27 اپریل سے پیرس کے ایک اسپتال میں زیرعلاج تھے اور وہ قومے کی حالت میں وطن لوٹے ہیں۔

دونوں اخبارات کے مینجنگ ایڈیٹر ہشام عبود نے فرانسیسی میڈیکل ذرائع اور الجزائری صدر کے عزیز واقارب کے حوالے سے ان کی بگڑتی ہوئی صحت سے متعلق یہ رپورٹ دی تھی۔

ہشام عبود ایک سابق فوجی ہیں اور وہ فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والے اخبار مون جرنل اور عربی جریدۃ کے ایڈیٹر ہیں۔انھوں نے اتوار کو فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ''ہمارے ذرائع کے مطابق صدر بدھ کی رات تین بجے (گرینچ معیاری وقت رات ایک بجے) قومے کی حالت میں الجزائر کے لیے روانہ ہوئے تھے''۔

اس اطلاع کے بعد ان کے دونوں اخبارات کو ہفتے کی رات ان کے چھاپہ خانوں ہی میں ضبط کر لیا گیا۔مینجنگ ایڈیٹر نے بتایا کہ ''وزارت مواصلات نے ہمیں اتوار کے ایڈیشن میں صدر بوتفلیقہ کی صحت سے متعلق دو صفحات کو ہٹانے کے لیے کہا لیکن ہم نے اپنے اوپر یہ سنسر لگانے سے انکار کردیا''۔

ہشام عبود کا کہنا تھا کہ ''ان کے لیے چوبیس صفحات کو محیط ایڈیشن میں سے دو صفحات کو ہٹانا فنی طور پر ناممکن تھا''۔انھوں نے کہا کہ ''اگر یہ رپورٹس بے بنیاد تھیں تو حکام کے لیے یہ بہتر نہ ہوتا کہ وہ ان کی تردید کے لیے صدر کے ذاتی معالج کا ایک بیان شائع کراتے یا وہ اب بھی صدر بوتفلیقہ کی تصویر نشر کرسکتے ہیں تا کہ شکوک کا خاتمہ ہو''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں