تیونس:انصارالشریعہ کی ریلی کے دوران جھڑپیں،14 افراد زخمی

قیروان میں اجتماع کی اجازت نہ ملنے پر سلفیوں کا دارالحکومت میں مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے دارالحکومت کے نواح میں سلفیوں کی جماعت انصارالشریعہ کے سیکڑوں حامیوں نے حکومت کی جانب سے سالانہ اجتماع کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس کے بعد مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چودہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

وزارت داخلہ نے دارالحکومت تیونس میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں گیارہ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ تین مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔انصارالشریعہ نے اتوار کو وسطی شہر قیروان میں سالانہ اجتماع کی اجازت نہ ملنے پر اپنے حامیوں کو دارالحکومت کے نواحی علاقے اعتضمن میں جمع ہوکر احتجاج کی اپیل کی تھی۔

قبل ازیں انصارالشریعہ نے قیروان میں سالانہ اجتماع میں شرکت کے لیے آنے والے اپنے تمام حامیوں سے کہا کہ وہ سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر وہاں جمع نہ ہوں اور اپنے اپنے علاقوں کی جانب لوٹ جائیں۔تاہم سخت گیر اسلامی گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں یہ نہیں بتایا کہ آیا اس نے اپنے سالانہ اجتماع کو منسوخ کردیا ہے یا اس کا بعد میں انعقاد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مختلف سخت گیر اسلامی گروپوں نے سر اٹھایا ہے اور وہ آئے دن احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں لیکن اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت نے گذشتہ چند ماہ سے سخت گیروں کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔قبل ازیں اس حکومت پر اسلامی جماعتوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں