سعودی کوریئر سروس کے ڈائریکٹر دوشیزہ کا عروسی لباس دینے خود پہنچ گئے

"کیا آپ کسی لڑکی کی شادی کی خوشی تاراج کرنے کا باعث بننا چاہیں گے؟"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی مشہور کوریئر سروس کے ڈائریکٹر جنرل سعودی دوشیزہ کا لباس عروسی بنفس نفیس پہنچانے مرسل الیھا کے گھر آ دھمکے۔

تفصیلات کے مطابق ریاض دارلحکومت کے شمالی مغربی شہر حریملا کے لئے مقامی کوریئر کمپنی کے ذریعے ایک دوشیزہ کا لباس عروسی بک کرایا گیا لیکن بوجوہ اسے پانچ دن تک منزل تک نہ پہنچایا جا سکا۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ 'ٹوئیٹر' کے ذریعے مرسل الیھا نے کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل حمد البکر کو پیغام بھجوایا کہ :"کیا سعودی محکمہ ڈاک کسی دلہن شب عروسی کی خوشیاں تاراج کرنے کا باعث بنے گا؟" ۔۔۔۔ حمد البکر نے جوابی ٹیویٹ میں کہا: "یقیناً نہیں"۔ انہوں نے خاتون صارف سے پارسل کا نمبر دریافت کیا۔

جس کے بعد 'البکر' نے معاملے کی چھان بین شروع کرائی تو عقدہ کھلا کہ حریملا میں اپنے لباس عروسی کی منتظر صارف کا تحفہ پانچ دن قبل بک کرایا گیا تھا، جو سعودی دوشیزہ نے اپنی شادی کے دن پہننا تھا، لیکن تاخیر کی وجہ سے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا، تاہم کوریئر سروس کے توسط سے اس موضوع پر ہونے والی مزید پیغام رسانی میں سعودی دوشیزہ کو خوشخبری سنائی گئی کہ انہیں بھیجا گیا پیکٹ مل گیا ہے اور اسے حمد البکر اپنی ذاتی گاڑی پر حریملا لیکر آ رہے ہیں۔

کمپنی کی ساکھ اور سعودی خاتون صارف کی خوشی کو یقینی بنانے کے لئے ڈائریکٹر جنرل حمد البکر نے اپنی چھٹی کے دن ذاتی گاڑی پر ریاض سے حریملا کا سفر کر کے پیکٹ بروقت منزل مقصود تک پہنچایا۔ پیکٹ ڈیلیوری پر حمد البکر نے اپنی ٹویٹ پیغام میں بتایا کہ 'میں اور میرے ساتھی ناصر الجدیع نے خاتون کا عروسی جوڑا ان تک بروقت پہنچا دیا ہے۔ ہم نے اہل خانہ کو شادی کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ کرے یہ بخیر و خوبی انجام پائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں