شامی نائب وزیر خارجہ فیصل القمداد کے والد اغوا

نامعلوم مسلح افراد نے اسی سالہ بزرگ کو درعا سے اٹھایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ہفتے کے روز درعا صوبے سے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد کے والد بزرگوار کو مسلح افراد نے گرفتار کر لیا ہے۔ بہ ظاہر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی سے انتقامی رنجش کی بو آتی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس [اے پی] کے مطابق شامی نائب وزیر خارجہ کے اسی سالہ والد کو جنوبی صوبے درعا کے غوسوم سے یرغمال بنایا گیا۔

ایک حکومتی ذریعے نے 'اے ایف پی' کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "آج مسلح افراد نے مسٹر مقداد کے والد کو غوسوم قصبے سے اغوا کر لیا ہے۔" ذرائع کے مطابق: "پیرانہ سال یرغمالی کو ان کے اہل خانہ کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد مسلح افراد انہیں درعا شہر لے گئے۔"

کسی تنظیم نے ابھی تک فیصل المقداد کے والد کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے اس سے پہلے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ مقداد کے والد کو چند ایسے مسلح افراد نے اغوا کیا جن کے کسی رشتہ دار کو مبینہ طور پر شامی فوج نے حراست میں لیا تھا۔ عبدالرحمن کے بہ قول فیصل المقداد کے والد کی رہائی کے لئے مذاکرات شروع کر دیئے گئے ہیں۔

درعا صوبہ، شامی حکومت کے خلاف بغاوت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر حکومتی فورس اور مسلح باغیوں کے درمیان ہلاکت خیز لڑائی ہو چکی ہے۔ فیصل المقداد، اپنے ہی عوام کے خلاف کمر بستہ شامی حکومت کی توانا آواز سمجھے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں