.

افغانستان: خودکش بم حملے میں 14 افراد ہلاک

پولیس کی وردی میں ملبوس بمبار کا صوبائی کونسل کے سربراہ پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں سوموار کو خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سنئیر سیاست دان سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کی اطلاع کے مطابق بغلان کے دارالحکومت پُل خمری کے وسط میں ایک بمبار نے ایک سرکاری عمارت کے باہر خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔وہ پولیس کی وردی میں ملبوس تھا اور پیدل تھا۔اس نے بغلان کی صوبائی کونسل کے سربراہ محمد محسنی کونشانہ بنایا تھا۔

صوبائی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر زبیراکبری نے خودکش بم دھماکے میں محمد محسنی سمیت چودہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔مرنے والوں میں سات پولیس گارڈ اور عام شہری شامل ہیں جو محمد محسنی سے ملاقات کے لیے صوبائی کونسل کی عمارت میں آئے تھے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے پل خمری میں اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور ''افغانستان کے دشمنوں'' پر اس کا الزام عاید کیا ہے۔یہ اصطلاح بالعموم طالبان مزاحمت کاروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔تاہم فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

گذشتہ روز افغانستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں دس پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں سے ایک واقعہ میں طالبان مزاحمت کاروں نے صوبہ غزنی کے ضلع موقر میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔اس میں چھے پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔