.

تیونسی وزیر اعظم کا ’’انصار الشریعہ‘‘ پر دہشت گردی کا الزام

التضامن کالونی میں جھڑپیں، دو افراد جاں بحق، متعدد سکیورٹی اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکمراں جماعت النہضہ کے وزیر اعظم نے’’انصار الشریعہ‘‘ پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ الزام 'انصار الشریعہ' کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد لگایا گیا ہے۔

جھڑپیں 'انصار الشریعہ' کی جانب سے قیروان شہر کے بجائے دارالحکومت تیونس کی التضامن کالونی میں کنونشن منعقد کرنے کی اپیل کے ردعمل میں ہوئیں۔

'انصار الشریعہ' کی جانب سے اپنے حامیوں کو قیروان شہر میں کانفرنس کے انعقاد میں ناکامی کے بعد دارالحکومت تیونس میں جمع ہونے کا کہا تھا جس کے ردعمل میں پولیس اور سلفیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ القاعدہ نواز تنظیم 'انصار الشریعہ' نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کے ذریعے کانفرنس کی جگہ تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا اور حامیوں کو قیروان کے بجائے التضامن کالونی میں جمع ہونے کی ہدایت کی تھی۔

یاد رہے کہ تیونس کی سکیورٹی فورسز اور فوج نے 'انصار الشریعہ' کی سالانہ کانفرنس کو روکنے کے لیے قیروان شہر کے داخلی راستے بند کردیے تھے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علی الصبح تحریک انصار الشریعہ کے ترجمان کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے جیل الشعانبی کے علاقے میں انتہاء پسند جماعتوں کے خلاف عسکری کارروائیاں کی ہیں اور مسلح گروہوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں، جبل شعانبی فوجی حوالے سے ایک مشکل علاقہ ہے جس پرکنٹرول حاصل کرنے میں تیونس کی حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مسلح گروہوں کی جانب سے نصب کردہ بارودی سرنگوں کی زد میں آکر تیونس کی فوج کے تین سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سب کے ساتھ ساتھ تیونس کی سرحد کے ساتھ ساتھ الجزائر کی حکومت نےبھی سکیورٹی انتظامات سخت کردیے ہیں تاکہ تیونس سے کسی بھی مسلح شخص کو الجزائر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ اس سے قبل تیونس کے اعلی سکیورٹی عہدیدار کہ چکے ہیں کہ الجزائر اور تیونس میں بہترین سکیورٹی تعاون موجود ہے۔

سکیورٹی کے حوالے سے جاری رپورٹس میں اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد علاقے سے اسلحہ تیونس اسمگل کیا گیا ہے۔