اسلام اور یہودیت مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے: رپورٹ

مذہبی آزادی ایک 'عالمگیر قدر' ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے مذہبی آزادی سے متعلق جاری کی گئی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اسلام اور یہودیت مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔

واشنگٹن حکومت نے اس تازہ رپورٹ کے تناظر میں تمام اقوام پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کو یقینی بنائیں۔ اس جامع سالانہ رپورٹ کے مطابق متعدد ممالک بالخصوص چین، میانمار، ایران، شمالی کوریا اور سعودی عرب میں اقلیتوں اور مذہبی آزادی کے حوالے سے صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ متعدد ممالک میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس مخصوص حوالے سے امریکا کا ریکارڈ بھی بہترین نہیں ہے۔ انہوں نے آزادی مذہب کو ایک ’عالمگیر قدر‘ قرار دیا اور کہا کہ کسی عقیدے پر یقین کرنا، اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا یا پھر اسے تبدیل کر لینا، ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا، ’’میں تمام ممالک پر زور دیتا ہوں، بالخصوص ان ممالک پر جن کا اس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ ان بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیےفوری طور پر ایکشن لیں۔‘‘

اس رپورٹ کے مطابق مصر اور وینزویلا میں سامیت مخالف رویوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2012 کی اس رپورٹ کے مطابق اسی طرح بالخصوص یورپ اور ایشیا میں اسلام مخالف بیانات اور اقدامات میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کے علاوہ چین میں بھی مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا ہے، جہاں ایغور نسل کے علاوہ تبتیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس سروے رپورٹ میں پاکستان میں شیعہ اور احمدیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ مسلم ممالک میں توہین مذہب پر مبنی قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں