اکبر رفسنجانی اور رحیم مشایی صدارتی انتخاب کے نااہل قرار: رپورٹس

آیت اللہ علی خامنہ ای کے چار وفاداروں سمیت آٹھ امیدواروں کے کاغذات منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایران کی خبررساں ویب سائٹس نے اطلاع دی ہے کہ شورائے نگہبان نے دو سرکردہ امیدواروں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور اسفندیار رحیم مشایی کو آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کی اطلاع کے مطابق شورائے نگہبان نے صرف آٹھ امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے۔ ان میں نصف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار ہیں۔ صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے والے اس ادارے کی جانب سے حتمی امیدواروں کی فہرست کا سرکاری اعلان منگل کی رات یا بدھ کو متوقع ہے۔

سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اصلاح پسند حلقوں میں بہت مقبول ہیں اور اگر انھیں واقعی صدارتی دوڑ سے باہر کر دیا جاتا ہے تو اس سے اصلاح پسند گروپوں کو مایوسی ہوگی۔ان کی صدارتی انتخاب میں عدم دلچسپی سے ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوسکتی ہے اور اس طرح آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار امیدوار کے جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

ایرانی میڈیا نے یہ تو نہیں بتایا کہ رفسنجانی کو کیوں نااہل قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے مخالفین یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کی عمر اٹھہتر برس ہے اور وہ اس بڑھاپے میں ملک کو احسن طریقے سے چلا نہیں پائیں گے۔

اس دعوے کی شورائے نگہبان کے ترجمان عباس علی کدخدائی کے سوموار کو جاری کردہ اس بیان سے بھی تصدیق ہوتی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''ادارہ محدود جسمانی صلاحیتوں کے حامل امیدواروں کو انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دے دے گا''۔ ترجمان کا واضح اشارہ سابق صدر کی جانب ہی تھا۔

شورائے نگہبان کے ستاسی سالہ بزرگ سربراہ آیت اللہ جناتی نے گذشتہ جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ جو امیدوار 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوران گڑ بڑ سے خود کو الگ نہیں رکھ سکے تھے،وہ صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

ایران کے سخت گیر بھی علی اکبر رفسنجانی پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔سخت گیروں کا سابق صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کی تھی اور ان کے بعد وہ صدر نژاد کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے۔

نیوز ویب سائٹس نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ شورائے نگہبان نے صدر احمدی نژاد کے مشیر خاص اسفندیار رحیم مشایی کو بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے ارکان نے ان کے غیر اسلامی رویے کے پیش نظر ان پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا حالانکہ صدر نژاد نے بہ نفس نفیس رحیم مشایی کے ہمراہ وزارت داخلہ میں جاکر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کے نام کا اندراج کرایا تھا جس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر ایرانی صدر کو سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

رحیم مشایی ایرانی صدر کے سمدھی ہیں اور ان کی بیٹی کی شادی صدر نژاد کے بیٹے سے ہوئی ہے۔وہ حالیہ برسوں کے دوران صدر نژاد کی سخت گیروں کے ساتھ اقتدار کے لیے رسہ کشی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بعض ناقدین کے بہ قول انھوں نے ایرانی صدر کو اپنے دام میں لانے کے لیے ان پر کالا جادو کرایا تھا۔

غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق جن امیدواروں کو چودہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا گیا ہے،ان میں ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی، معروف رکن پارلیمان غلام علی حداد عادل ،سابق وزیرخارجہ علی اکبر ولایتی اور تہران کے میئر محمد باقر قلی باف شامل ہیں۔یہ تمام حضرات آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار خیال کیے جاتے ہیں۔

ان کے علاوہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی ،سابق جوہری مذاکرات کار حسن روحانی ، سابق اول نائب صدر محمد رضاعارف اور ایک غیرمعروف سابق وزیرخارجہ کے کاغذات بھی منظور کر لیے گئے ہیں۔ان تمام آٹھ امیدواروں میں حسن روحانی اور رضاعارف ہی اصلاح پسند ہیں۔ اب اصلاح پسندوں کو ان دونوں میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہوگا۔ان کے لیے دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کا سرے سے بائیکاٹ ہی کردیں۔

صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کل 686 امیدواروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا تھا۔ان میں تیس خواتین بھی شامل تھیں لیکن شورائے نگہبان کے رکن آیت اللہ محمد یزدی نے گذشتہ ہفتے قرار دیا تھا کہ خواتین صدارتی امیدوار نہیں ہوسکتی ہیں۔ ان کے اس بیان سے قبل بھی خواتین کے صدارتی امیدوار بننے یا انتخاب جیتنے کے امکانات معدوم تھے۔

یادرہے کہ ایران میں جون 2009ء میں منعقدہ گذشتہ متنازعہ صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد نے دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی۔ ایرانی حکومت پر ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فراڈ کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔تب ان کے مقابلے میں تین اصلاح پسند امیدوار تھے۔انتخابی نتائج کے خلاف ایران میں کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور اصلاح پسندوں کی احتجاج تحریک کو سبز تحریک کا نام دیا گیا تھا۔ایرانی حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا جس پر اسے اندرون اور بیرون ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں