شام سے متعلق کوئی آپشن بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے: برطانیہ

بشار الاسد جنیوا مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں: ولیم ہیگ کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شامی صدر بشارالاسد کی حکومت جنیوا میں امن مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر کوئی بھی آپشن زیرغور لایا جاسکتا ہے۔

انھوں نے سوموار کو برطانوی دارالعوام میں شام سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں اس بات کو واضح کرنا چاہیے کہ اگر شامی حکومت جنیوا کانفرنس میں سنجیدگی سے مذاکرات نہیں کرتی ہے تو پھر کسی بھی آپشن پرغور کیا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اسد رجیم سنجیدگی سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

ولیم ہیگ نے کہا کہ ہرہفتے اس ملک شام کا گرنا قریب تر ہوتا جارہا ہے۔اس سے علاقائی سطح پر طوائف الملوکی کی راہ ہموار ہوگی۔شام پر اسلحے کی تجارت کی پابندی اسد رجیم پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

درایں اثناء روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ شامی اپوزیشن کی امن بات چیت میں شرکت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔انھوں نے حزب اختلاف کے نمائندوں پر زوردیا ہے کہ وہ شامی بحران کے حل کے لیے اپنی کوئی پیشگی شرط عاید نہ کریں۔ان کا اشارہ صدر بشارالاسد کے استعفے کے مطالبے کی جانب تھا۔

لاروف نے روس کے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ ایران کو شامی بحران کے حل کے لیے مذاکرات میں شریک کیا جانا چاہیے۔

شامی صدر بشارالاسد نے اسی ہفتے جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔تاہم انھوں نے ان مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ارجنٹینا کے ایک اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ بہت سے طاقتیں شامی بحران کا حل نہیں چاہتی ہیں۔

روس اور امریکا کے وزرائے خارجہ نے چند روز قبل ہی جنیوا میں آیندہ ماہ شامی بحران کے حل کے لیے کانفرنس بلانے سے اتفاق کیا تھا۔اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس کانفرنس میں تمام فریق شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے کسی قابل عمل حل پر اتفاق کر لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں