صدارتی امیدواروں کی اہلیت پر متوقع فیصلہ ایران میں سکیورٹی ہائی الرٹ

"رفسنجانی کی اہلیت کے حوالے سے تین امکانات، مشائی نااہل ہو جائیں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں سابق صدر ھاشمی رفسنجانی اور احمدی نژاد کے سمدھی اسفندیار رحیم مشائی کی صدارتی انتخابات میں اہلیت کے بارے میں بحث شدید ہوتی جا رہی ہے۔ تہران کے باخبر ذرائع نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ تہران میں صدارتی امیدواروں کی اہلیت کے حتمی اعلان سے قبل تہران میں سکیورٹی کے حوالے سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ امیدواروں کی اہلیت کے اعلان سے قبل ھنگامی حالت کے نفاذ کی ہدایت کے بعد ایرانی سکیورٹی فورسز حساس مقامات پر پھیل گئی ہیں۔ حکومتی اداروں کے قریب اور ایسے تمام مقامات جہاں کونسل آف گارڈین کی جانب سے عدم اہلیت کا فیصلہ آنے پر احتجاج یا فسادات کی توقع کی جا رہی ہے سکیورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔

مزید برآں ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست کردی گئی ہے جس کے بعد انٹرنیٹ پر کوئی بھی ویب سائٹ کھولنا تقریبا ناممکن ہوگیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ھاشمی رفسنجانی کی نااہلی کی افواہوں کے بعد ایران کے تمام شہروں میں ھاشمی رفسنجانی کے انتخابی دفاتر بند کردیے ہیں۔

تاہم بہ قول ذرائع اس کے باوجود ایران کے سیاسی حلقوں میں رفسنجانی کی اہلیت یا نا اہلی کے حوالے سے متضاد اطلاعات پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان افواہوں میں سب سے زیادہ مضبوط افواہ کے مطابق گارڈین کونسل نے نو ووٹوں کے ساتھ رفسنجانی کو نا اہل قرار دیدیا ہے جبکہ دو ووٹ ان کے حق میں پڑے۔ انہیں نااہل قرار دینے کی وجہ پیرانہ سالی کو قرار دیا گیا ہے۔ رفسنجانی کی عمر 79 سال ہو چکی ہے۔

تاہم رفسنجانی کے حامی سیاسی فورمز میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں ان کے مطابق یہ افواہیں کی اصلاحاتی کونسل کےسربراہ کےخلاف نفسیاتی جنگ کا ایک حربہ ہیں جبکہ رفسنجانی کو اپنی اہلیت کی تصدیق کی خبریں موصول ہو چکی ہیں۔

ایرانی امور کے ماہر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رفسنجانی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے متعدد منظر نامے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ تو رفسنجانی کی نااہلی کے متعدد گردش کرنے والی تمام افواہیں غلط ثابت ہوں جیسا کہ اس ضمن میں خود رفسنجانی بڑے پر اطمینان نظر آ رہے ہیں، دوسرا یہ کہ ایرانی مرشد اعلی رفسنجانی کو ایرانی صدر بنانے پر راضی نہ ہوں اور گارڈین کونسل کی جانب سے انتخابی مہم کے آغاز سے قبل ہی انہیں نااہل قرار دیدیا جائے جس سے پرتشدد انتخابات کا راستہ کھل جائے۔

تیسرا منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گارڈین کونسل کی جانب سے رفسنجانی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد مرشد اعلی ذاتی مداخلت کریں اور اپنے آئینی حق، جسے ایران میں ’’حکومتی فیصلہ‘‘ کہا جاتا ہے، کو استعمال کرتے ہوئے رفسنجانی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تائید کردیں۔ اس طرح بڑے احسن طریقے سے وہ رفسنجانی سے نجات بھی حاصل کرلیں گے کیونکہ رفسنجانی نے ایران میں خامنئی، جو ولی الفقیہ ہوتا ہے، بننے کی بھی کوشش کی ہے۔

ادھر رحیم مشائی کی اہلیت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ نااہل قرار دیدیے جائیں، مبصرین کے مطابق رحیم مشائی کے حامیوں نے کل انکی نااہلی کا فیصلہ آنے کی صورت میں وزارت داخلہ کی عمارت کے سامنے بھرپور احتجاج کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں